مواد پر جائیں
منگل، 20 اکتوبر 2026 9 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 1:37
بریکنگ
قلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدآسٹریلیا: وفاقی رکن پارلیمنٹ گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی، حالت تشویشناکدہشتگردی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے: نواز شریفکراچی: سائٹ ایریا میں گارمنٹس فیکٹری کے گودام میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھیسوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد کا معاملہ، اقرار الحسن عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقللاہور: مزنگ اڈا میں گیس سلنڈر لیک ہونے سے آگ بھڑک اٹھی، 2 افراد زخمیلاہور: گیس لیکیج سے آگ لگنے کے باعث 2 افراد زخمی، مختلف واقعات میں 4 جاں بحقحرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ڈی جی آئی ایس پی آرقصور: بجلی چوری پکڑنے پر لیسکو ٹیم پر مسلح افراد کا حملہ، مقدمہ درجمشرق وسطیٰ میں فوجی تصادم پر مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس حرکت میں آئے گا: ڈی جی آئی ایس پی آربلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدسعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آربالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے ملزمان راجستھان سے گرفتارفرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے وزیرِ داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیاورلڈ فوڈ پروگرام نے فنڈز کی کمی پر غزہ میں امداد نصف کر دیروزانہ پھلوں کا استعمال ڈپریشن اور انزائٹی کا خطرہ کم کرتا ہےکراچی میں نوجوان گلوکارہ ایمن زارا کی پہلی سولو پرفارمنسغزہ کیلیے عالمی فورس کی تیاری، امریکی قیادت میں مراکش کے 500 اہلکاروں کی خصوصی ٹریننگایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، تمام ریکارڈ ٹوٹ گئےحکومتی قرضوں میں روزانہ اضافے کی خبر نامکمل اور گمراہ کن ہے: وزارتِ خزانہ
دنیا

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا دورہ متحدہ عرب امارات، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون خلیجی خطے کی کشیدگی اور توانائی کی ترسیل کے امور پر بات چیت کے لیے ابوظہبی پہنچ گئے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا دورہ متحدہ عرب امارات، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون ایک اہم سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا انتہائی پُرتپاک استقبال کیا گیا ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس دورے کا مقصد خلیجی خطے کو درپیش چیلنجز پر قابو پانا اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔

ابوظہبی کے ہوائی اڈے پر فرانسیسی صدر کے استقبال کے لیے ایک باضابطہ استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں اعلیٰ اماراتی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں برادر ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے اور چاق و چوبند اعزازی دستے نے مہمان رہنما کو سلامی پیش کی۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے خود ہوائی اڈے پر فرانسیسی صدر کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ اس اعلیٰ سطحی خیرمقدم سے دونوں ممالک کے درمیان گہرے دوستانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی ہوتی ہے۔

فرانسیسی صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے عالمی معیشت اور تجارت پر پڑنے والے اثرات کے پیش نظر سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ عالمی توانائی کی منڈی کو اس وقت شدید نوعیت کے چیلنجز اور خدشات کا سامنا ہے۔

دورے کے دوران ہونے والی بات چیت میں سب سے اہم نکتہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو بحال کرنا اور توانائی کی فراہمی کے راستوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا ہے۔ اس حساس سمندری گزرگاہ کی حفاظت عالمی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

فرانسیسی قیادت اور اماراتی حکام کے مابین ہونے والی ملاقاتوں میں دفاعی تعاون، سلامتی کے امور، دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں کو مزید مستحکم کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں شراکت داری بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

ملاقاتوں کے دوران روایتی شعبوں کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کو وسعت دینے کے امور بھی زیر غور آئے ہیں۔ اس کے علاوہ علاقائی امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

خلیجی خطے کے ممالک موجودہ بحران سے نمٹنے اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں تیز کیے ہوئے ہیں تاکہ خطے کو کسی بھی بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔ دنیا بھر کی نظریں اس خطے میں ہونے والی سفارتی سرگرمیوں پر مرکوز ہیں۔

دوسری جانب خلیجی ممالک کی طرف سے یہ اپیل بھی کی گئی ہے کہ خطے میں فوری طور پر جنگ بندی نافذ کی جائے اور اس مقصد کے لیے ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا جائے۔ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیاسی اور سفارتی راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔

اسی تناظر میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لارووف بھی آج تہران پہنچ چکے ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کے لیے مختلف فریقین کے ساتھ اہم سفارتی ملاقاتیں اور مشاورت کی جا سکے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور تناؤ کے باعث خلیجی خطے کی توانائی تنصیبات اور سمندری نقل و حمل کو سنجیدہ خطرات لاحق ہیں۔ ان حفاظتی خدشات نے بین الاقوامی برادری کے لیے بھی تشویشناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔

توانائی کے ذرائع اور سمندری راستوں پر پڑنے والے ان منفی اثرات کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں تعطل اور اس کی قیمتوں میں اضافے کے واضح خدشات پائے جاتے ہیں۔ عالمی منڈی کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

تمام متعلقہ فریقین اور عالمی طاقتیں اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہیں کہ بحران کا واحد حل سیاسی مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ فرانسیسی صدر کا یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جو خطے میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں