کراچی میں ریلوے پولیس اور سٹی وارڈنز کے مابین پیدا ہونے والے تنازع نے ایک نئی صورت اختیار کر لی ہے، جس کے بعد شہر کے مختلف اہم مقامات پر کچرا پھینکنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعات ریلوے کے اعلیٰ افسران کے رہائشی علاقوں اور دفتری عمارتوں کے باہر پیش آئے ہیں، جس سے انتظامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب واقع ڈی ایس ریلوے کی رہائش گاہ کے مرکزی دروازے پر نامعلوم افراد کی جانب سے کچرا ڈالا گیا، جس کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔
اسی طرح آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ریلوے کے مرکزی دفاتر کے باہر بھی کچرا پھینکے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس نے انتظامیہ کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔
شہر کی مصروف ترین شاہراہ، شارع فیصل پر ڈرگ روڈ کے قریب بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں نامعلوم افراد نے کچرا ڈال کر سڑک کے ایک حصے کو متاثر کیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعات ریلوے پولیس اور سٹی وارڈنز کے درمیان حال ہی میں ہونے والی تلخ کلامی اور مبینہ تنازع کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔
اس سے قبل ریلوے اہلکاروں کی جانب سے سٹی وارڈن کے مبینہ اغوا اور تشدد کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا، جس کے بعد سے دونوں محکموں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام تاحال اس بات کا تعین کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ یہ کچرا کس وقت اور کن افراد نے پھینکا ہے، کیونکہ اس حوالے سے کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر تاحال کسی بھی متاثرہ فریق کی جانب سے باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے، جس کی وجہ سے تحقیقات میں تاخیر کا سامنا ہے۔
شہریوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کی اہم شاہراہوں اور سرکاری دفاتر کے باہر اس طرح کی حرکت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ریلوے انتظامیہ کے ترجمان نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ موقف جاری نہیں کیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق اندرونی طور پر اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
سٹی وارڈنز اور ریلوے پولیس کے درمیان یہ تنازع گزشتہ کچھ دنوں سے خبروں کی زینت بنا ہوا ہے، جس میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
انتظامیہ اب ان تمام واقعات کے تانے بانے ملانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ سب ایک ہی منصوبے کا حصہ ہے یا الگ الگ واقعات ہیں۔





اپنی رائے دیں