لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کے دوران ایک اہم کارروائی کی ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں جعلی سفری دستاویزات کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے ایک مسافر کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے امیگریشن حکام کے مطابق گرفتار ہونے والے مسافر کی شناخت نور خان ولد عبدالرؤف خان کے نام سے ہوئی ہے۔ مذکورہ مسافر پرواز نمبر او ڈی-132 کے ذریعے ملائیشیا روانہ ہونے کی تیاری کر رہا تھا جب اسے امیگریشن کاؤنٹر پر روکا گیا۔
دورانِ جانچ پڑتال حکام کو مسافر کے پاسپورٹ پر موجود دستاویزات مشکوک معلوم ہوئیں۔ تفصیلی معائنے سے انکشاف ہوا کہ پاسپورٹ پر چین کا جعلی وزٹ ویزا، کراچی ایئرپورٹ کی جعلی روانگی کی مہر اور ملائیشیا کی جعلی ایگزٹ اسٹیمپ لگی ہوئی تھی جو کہ مکمل طور پر غیر قانونی تھی۔
ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے یہ تمام جعلی سفری دستاویزات اور مہریں رستم کے رہائشی ایک ایجنٹ غفار سے حاصل کی تھیں۔ ملزم کے مطابق اس نے اس غیر قانونی کام کے لیے ایجنٹ کو سات لاکھ روپے کی خطیر رقم ادا کی تھی۔
ایف آئی اے امیگریشن لاہور نے مسافر کو فوری طور پر پرواز سے آف لوڈ کر دیا ہے۔ ملزم کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور کے حوالے کر دیا گیا ہے جہاں اس سے مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ جعلی سفری دستاویزات، غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف ملک بھر کے ایئرپورٹس پر سخت نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس طرح کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایئرپورٹ پر تعینات عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مسافروں کی دستاویزات کی جانچ پڑتال میں انتہائی احتیاط سے کام لیں۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے حالیہ عرصے میں ایئرپورٹس پر جعلی ویزوں اور پاسپورٹس کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے۔ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد ملک سے انسانی اسمگلنگ کی لعنت کا خاتمہ کرنا اور غیر قانونی سفر کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بیرون ملک جانے کے لیے ہمیشہ قانونی راستوں کا انتخاب کریں اور کسی بھی غیر قانونی ایجنٹ کے جھانسے میں نہ آئیں۔ جعلی دستاویزات کا استعمال نہ صرف قانونی مشکلات کا باعث بنتا ہے بلکہ یہ ایک سنگین جرم بھی ہے۔
ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اب اس کیس کے مرکزی کردار یعنی ایجنٹ غفار کی گرفتاری کے لیے بھی کوششیں شروع کر رہا ہے۔ ملزم سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں مزید گرفتاریوں کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ ایف آئی اے امیگریشن کا عملہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا بیس کی مدد سے مشکوک مسافروں کی نشاندہی کر رہا ہے۔
اس کارروائی کو ایئرپورٹ پر تعینات امیگریشن ٹیم کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ ادارے کے اعلیٰ حکام نے ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اسی طرح کی مستعدی کا مظاہرہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے۔
ملزم کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ اور امیگریشن آرڈیننس کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں سے اس کا مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔





اپنی رائے دیں