خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے وفاقی حکومت کو غیر معمولی آئینی اقدامات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد 99 تھی جو 2026 میں 13 اکتوبر تک 851 تک پہنچ چکی ہے، جو کہ ایک سنگین صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
دہشت گردی کے ان واقعات میں خودکش حملوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف عام شہری بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2020 میں 1، 2021 میں 2، 2022 میں 8، 2023 میں 28، 2024 میں 15، 2025 میں 16 اور 2026 میں 13 خودکش حملے ہوئے۔
وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ صوبائی قیادت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے سیاسی محاذ آرائی میں مصروف رہی ہے۔ وفاق کا الزام ہے کہ صوبائی وسائل کو امن و امان کے قیام کے بجائے اپنے گرفتار رہنما کی رہائی اور دھرنوں پر خرچ کیا گیا ہے۔
ماضی میں دہشت گردی کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیاں اب خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ جون 2014 میں شروع کیے گئے آپریشن ضربِ عضب کے بعد امن کی جو فضا قائم ہوئی تھی، اسے برقرار رکھنے کے لیے مستقل حکمت عملی کی ضرورت تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ سیاسی کشمکش کی وجہ سے سیکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی متاثر ہوئی ہے، جس کا براہِ راست فائدہ دہشت گرد عناصر کو پہنچ رہا ہے۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی اپنے آبائی علاقوں میں بھتے کی کالز اور دھمکیوں کا سامنا ہے، جو کہ ایک نیا اور سنگین چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ یہ صورتحال ملک کی معاشی اور سماجی ساکھ پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے اب غیر معمولی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے صوبے میں امن کی بحالی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ عوام کی توقع ہے کہ اب عملی اقدامات کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا اور پائیدار امن قائم ہوگا۔
صوبے میں پولیس کی استعداد کار بڑھانے، اسکولوں اور اسپتالوں کو محفوظ بنانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ترقیاتی اہداف کا تعین کر کے ان پر عمل درآمد ہی عوام کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے عوام گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے قربانیاں دے رہے ہیں اور اب وہ ایک پرسکون زندگی کے منتظر ہیں۔ ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو خوف سے آزاد ماحول فراہم کرے تاکہ وہ معمول کی زندگی گزار سکیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور لاکھوں شہریوں نے نقل مکانی کا دکھ برداشت کیا ہے۔ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور ریاست اپنی رٹ قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
آئینی طور پر گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ ایک سنجیدہ قدم ہے، جس کا مقصد صوبے میں انتظامی امور کو بہتر بنانا اور امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں لانا ہے۔ اس فیصلے کے نتائج آنے والے دنوں میں واضح ہوں گے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر دہشت گردی کے خلاف ایک قومی بیانیہ تشکیل دے۔ قومی سلامتی کے معاملات پر سیاست سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنا ہی ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہے۔





اپنی رائے دیں