یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک اہم بیان میں اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک روسی آئل ریفائنریز اور توانائی کی تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع شدت اختیار کر چکا ہے۔
صدر زیلنسکی نے واضح کیا کہ یوکرین نے امریکی حکام کی جانب سے دی گئی تجویز کے بعد تین روز تک روسی توانائی کے مراکز کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔ تاہم اب یوکرینی قیادت کا ماننا ہے کہ اگر روس کی جانب سے حملوں کا سلسلہ نہ رکا تو یوکرین مزید خاموش نہیں رہے گا۔
یوکرینی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی حملوں کے جواب میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ایک مجبوری بن چکا ہے تاکہ جارحیت کو روکا جا سکے۔
اس صورتحال کے تناظر میں صدر زیلنسکی نے امریکی انٹیلی جنس تعاون محدود کیے جانے کے امکان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انٹیلی جنس شیئرنگ میں کمی کی گئی تو اس سے یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مزید برآں، یوکرینی صدر نے سٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس میں ممکنہ رکاوٹوں پر بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ یہ سروس یوکرین کے لیے مواصلاتی رابطوں اور فوجی آپریشنز میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جس کے بغیر زمینی صورتحال کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے یوکرین نے ڈرون حملوں کے ذریعے روس کی متعدد آئل ریفائنریز کو نشانہ بنایا تھا، جس سے روسی توانائی کی پیداوار اور برآمدات پر اثرات مرتب ہوئے تھے۔ ان حملوں کو یوکرین کی جانب سے ایک اہم تزویراتی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔
دوسری جانب، عالمی برادری اور خاص طور پر امریکہ نے ان حملوں کے عالمی توانائی منڈیوں پر اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ امریکہ کا موقف رہا ہے کہ توانائی کے مراکز پر حملوں سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔
یوکرینی صدر کا یہ تازہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کیئف اپنی فوجی حکمت عملی میں کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینے کا عزم رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کو اپنی بقا کے لیے سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔
روسی حکام نے یوکرین کے ان اعلانات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے، تاہم روس کی جانب سے یوکرینی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری یہ کشیدگی خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین دوبارہ روسی ریفائنریز کو نشانہ بناتا ہے تو اس سے روس کی معاشی صلاحیت پر دباؤ بڑھے گا۔ تاہم یہ اقدام یوکرین کے لیے بھی جوابی کارروائی کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے جنگ کے دائرہ کار میں وسعت کا خدشہ ہے۔
مستقبل کے حوالے سے سفارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تنازع کو کم کرنے کے لیے بات چیت کا عمل ضروری ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں دونوں فریقین اپنے اپنے فوجی اہداف کے حصول کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں، جس سے امن کی امیدیں ماند پڑ رہی ہیں۔
یوکرین کے لیے امریکی امداد اور تکنیکی تعاون کی اہمیت مسلمہ ہے، اس لیے زیلنسکی کا انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ سروسز پر تشویش کا اظہار ان کی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے۔ آنے والے دن اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوں گے کہ مغربی ممالک یوکرین کے اس فیصلے پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔
عالمی منڈیوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین نے روسی توانائی تنصیبات پر حملے تیز کیے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔ یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔





اپنی رائے دیں