اسلام آباد میں وزارت اطلاعات و نشریات نے ان تمام افواہوں اور دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ امریکی بحریہ پاکستان کی حدود کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ آفیشل فیکٹ چیک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ اطلاعات مکمل طور پر من گھڑت اور حقائق کے منافی ہیں۔ ان دعووں میں یہ جھوٹا تاثر بھی دیا گیا تھا کہ پاکستان نے مبینہ کارروائیوں کے لیے اپنی منظوری دی ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق یہ پروپیگنڈا شمالی امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے پھیلایا گیا، جس کا مقصد پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا اور خطے میں انتشار پھیلانا ہے۔
ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسی بے بنیاد پوسٹس کسی بھی سنجیدہ مبصر یا ذمہ دار شہری کی توجہ کے قابل نہیں ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف پروپیگنڈا کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنا ہے، لہذا ایسی معلومات پر ہرگز یقین نہیں کیا جانا چاہیے۔
حکومتی سطح پر جاری کردہ وضاحت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کا مکمل پاسدار ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس طرح کے دعوے پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں۔
سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے اس جھوٹے بیانیے کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی مہمات کا مقصد پاکستان کی خارجہ پالیسی اور علاقائی تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں رہا ہے۔
وزارت اطلاعات نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر آنے والی ایسی غیر مصدقہ اور اشتعال انگیز خبروں کی تصدیق کیے بغیر ان پر توجہ نہ دیں اور نہ ہی انہیں آگے پھیلائیں۔ کسی بھی خبر کی حقیقت جاننے کے لیے سرکاری ذرائع پر انحصار کرنا ضروری ہے۔
پاکستان کی جانب سے یہ واضح موقف سامنے آنے کے بعد ان تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے جو گزشتہ کچھ عرصے سے انٹرنیٹ پر گردش کر رہی تھیں۔ حکومتی فیکٹ چیک ٹیم نے اس معاملے کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر کاربند رہنے کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کی دفاعی پالیسی کسی بھی بیرونی طاقت کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل دور میں اس طرح کا پروپیگنڈا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، تاہم حکومتی اداروں کی جانب سے بروقت تردید اور حقائق سامنے لانے سے عوام میں پائی جانے والی تشویش کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح کے منفی ہتھکنڈوں کا مقصد پاکستان کے عالمی تشخص کو متاثر کرنا ہے جو کہ کامیاب نہیں ہوگا۔
حکومت پاکستان نے اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے اسے ایک منظم پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسی افواہوں کو پھیلانے سے گریز کریں۔
آخر میں، وزارت اطلاعات نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ عوام نے اس پروپیگنڈے کو مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے تحت تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔





اپنی رائے دیں