بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال کے مرکزی شہر کولکتہ میں ایک مذہبی تہوار کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں 17 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حکام کے مطابق اس حادثے میں کم از کم 25 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں قریبی ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
مقامی انتظامیہ اور بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہر میں مذہبی تقریب کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔ تقریب کے دوران اچانک موسلا دھار بارش شروع ہو گئی جس کے بعد پنڈال کے باہر موجود ہجوم میں شدید افراتفری پھیل گئی۔
بارش سے بچنے اور پنڈال کے اندر داخل ہونے کی جلدی میں لوگوں نے ایک دوسرے کو دھکے دینا شروع کر دیے جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی۔ ہجوم کے بے قابو ہونے کے باعث کئی افراد زمین پر گر گئے اور پیچھے سے آنے والے لوگوں کے پاؤں تلے کچلے گئے۔
مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک 7 سالہ بچی بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 6 لاشوں کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے جبکہ باقی متاثرین کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق کچھ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ہجوم کی بڑی تعداد اور بارش کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال نے انتظامی انتظامات کو بری طرح متاثر کیا تھا۔
بھارت میں مذہبی اجتماعات کے دوران بھگدڑ مچنے کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔ گنجان آباد علاقوں میں منعقد ہونے والی تقریبات میں اکثر حفاظتی انتظامات کی کمی اور ہجوم کو کنٹرول کرنے میں ناکامی بڑے حادثات کا سبب بنتی ہے۔
گزشتہ برس بھی بھارت میں اسی نوعیت کا ایک بڑا سانحہ پیش آیا تھا جب کمبھ میلے کے دوران بھگدڑ مچنے سے 30 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس طرح کے واقعات عوامی اجتماعات میں سکیورٹی اور نظم و ضبط کے حوالے سے سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
اس سے قبل بنگلورو میں بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جہاں مقامی کرکٹ ٹیم کی انڈین پریمیئر لیگ میں کامیابی کے جشن کے دوران ہجوم بے قابو ہو گیا تھا۔ اس واقعے میں بھی 11 افراد کچلے جانے کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
کولکتہ انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔ حکام کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ بڑے اجتماعات کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔
مذہبی تہواروں کے موقع پر کولکتہ میں لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں جس کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جاتے ہیں۔ تاہم اچانک ہونے والی موسمی تبدیلیوں اور ہجوم کے دباؤ نے انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا کر دیں۔
فی الحال شہر بھر میں ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں زخمیوں کی جان بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
واقعے کے بعد متاثرین کے لواحقین کی بڑی تعداد ہسپتالوں کے باہر جمع ہے اور اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے معلومات کے حصول کے لیے ایک ہیلپ لائن قائم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں