مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 1:37
بریکنگ
پشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحقمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ طیارہ مشن کے لیے تیاراپر کرم اور غوز گڑھی میں پاک فوج کا افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جوابمغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کا یورپی سفارت کاروں کے وفد پر حملہپاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جوابی وارایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کیلئے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰلیاری: ثقافتی ورثہ، سیاسی شعور اور ادبی روایت کا گہوارہسانحہ کارساز کے 19 برس مکمل، شہدا کی یاد میں کراچی میں تقریب کا انعقادمکہ دفاعی معاہدہ: ترکی کی جانب سے سعودی عرب کو عسکری معاونت کی تیاریمغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا فرانسیسی میئر اور یورپی سفارت کاروں پر حملہامریکا: پرانے سامان کی خریداری کے دوران دوسری جنگِ عظیم کے فعال بم برآمدستاروں کی روشنی میں آپ کا آنے والا ہفتہ کیسا رہے گا؟سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات؛ امریکا اور برطانیہ کی شہریوں کو سفری ہدایات جاریخیبر پختونخوا: نادرا کے 43 نئے سہولت مراکز کا قیام، شہریوں کو بڑی ریلیفسان فرانسسکو میں پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا انعقاد، ٹیکنالوجی میں تعاون پر زورپاکستان اور چین کی پہلی مشترکہ فوجی مشق ‘قراقرم 2026’ کا آغازیوکرین کے سابق فٹبالر روس کے خلاف جنگ میں ہلاککراچی ایئرپورٹ پر ہم جنس شادی کے ارادے سے تھائی لینڈ جانے والے دو مسافر آف لوڈسعودی عرب: دہشت گردی میں ملوث 5 شہریوں کو سزائے موت دے دی گئیمحمد رضوان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی، پریزیڈنٹ ٹرافی میں ایکشن میں نظر آئیں گے
پاکستان

گورنر راج کا فیصلہ مشکل تھا، دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، فیصل کریم کنڈی

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وفاق کے ساتھ مل کر صوبے کے مسائل حل کریں گے اور امن کا قیام یقینی بنائیں گے۔

گورنر راج کا فیصلہ مشکل تھا، دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، فیصل کریم کنڈی

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی مشکل اور حساس فیصلہ تھا، تاہم موجودہ حالات میں صوبے کی بہتری اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا اور صوبے میں دیرپا امن کا قیام ہے، تاکہ عوام کو ایک پرسکون ماحول فراہم کیا جا سکے اور ترقی کی راہ ہموار ہو۔

ولی باغ میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ وہ وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے مسائل کو دلائل اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں اسلام آباد کے ساتھ تعلقات میں تلخی رہی ہے، جسے اب خوشگوار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے اہم معاملات کو مؤثر انداز میں وفاق کے سامنے پیش کیا جا سکے اور ان پر پیش رفت ممکن ہو۔

گورنر نے کہا کہ 2008 سے 2013 کے دوران پیپلز پارٹی اور اے این پی کی مخلوط حکومت نے صوبے میں امن بحال کیا تھا، لیکن بعد کے برسوں میں حالات دوبارہ خراب ہوئے جس کے اثرات آج بھی صوبے کے عوام بھگت رہے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کی شناخت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بجائے امن، سیاحت اور ترقی سے جڑی ہو، تاکہ دنیا بھر میں صوبے کا ایک مثبت اور روشن تشخص اجاگر ہو سکے اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل، معدنیات، گیس اور تمباکو جیسی دولت سے مالا مال ہے، جنہیں بروئے کار لا کر صوبے کو معاشی طور پر مستحکم کیا جا سکتا ہے، اس لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور استعمال پر توجہ مرکوز ہے۔

انہوں نے این ایف سی ایوارڈ سمیت صوبے کے دیگر اہم معاملات پر وفاق کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے ہر سطح پر اپنی آواز بلند کریں گے۔

صوبے میں جاری ہڑتالوں کے حوالے سے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ 8 سے 10 ہزار ینگ ڈاکٹرز گزشتہ کئی برسوں سے اپنے جائز مطالبات کے لیے سراپا احتجاج تھے، تاہم ان کے ساتھ بات چیت کے بعد ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم کر دی ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ ینگ ڈاکٹرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، کیونکہ صحت کے شعبے میں بہتری لانا اور ڈاکٹرز کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے جسے پورا کیا جائے گا۔

گورنر نے مزید کہا کہ وہ نظام میں موجود خرابیوں کو درست کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور جہاں بھی غلطیاں پائی گئیں، انہیں ٹھیک کیا جائے گا تاکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور عوام کو ریلیف ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اداروں میں اہل اور قابل لوگوں کو آگے لایا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنا کر اداروں کا وقار بحال کیا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب صوبے کے مقدمے کو مؤثر انداز میں پیش کیا جائے گا تاکہ وفاق سے صوبے کے حقوق کا حصول ممکن ہو سکے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ان کا مقصد صوبے میں خوشحالی لانا ہے تاکہ عوام کا معیار زندگی بلند ہو۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں