قومی کرکٹ ٹیم کے جارح مزاج اوپننگ بلے باز فخر زمان نے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈومیسٹک سطح پر فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا کھلاڑیوں کی فٹنس اور ذہنی مضبوطی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔
فخر زمان نے اپنے حالیہ تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں فرسٹ کلاس میچوں میں طویل دورانیے تک فیلڈنگ کی ہے، جس سے انہیں اپنی جسمانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں کافی مدد ملی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریڈ بال کرکٹ کھیلنے کے بعد ون ڈے فارمیٹ میں کارکردگی دکھانا نسبتاً آسان محسوس ہوتا ہے، کیونکہ طویل دورانیے کی کرکٹ کھلاڑی کے صبر اور تکنیک کو نکھارنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
اوپننگ بیٹر نے مزید کہا کہ ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ کے معیار میں واضح فرق موجود ہوتا ہے، تاہم فرسٹ کلاس کرکٹ کھلاڑی کو ہر طرح کے حالات میں کھیلنے کے لیے تیار کرتی ہے تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر دباؤ برداشت کر سکے۔
ورلڈ کپ کی تیاریوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فخر زمان نے کہا کہ ٹیم انتظامیہ اور کھلاڑیوں کی تمام تر توجہ آئندہ بڑے ایونٹ پر مرکوز ہے، جس کے لیے ٹیم کا ایک متوازن کمبی نیشن تیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے قومی ٹیم کوئی بڑا ٹورنامنٹ جیتنے میں ناکام رہی ہے، تاہم کھلاڑیوں کے ذہنوں میں یہ بات واضح ہے کہ اب ہمیں اپنی کارکردگی کے معیار کو مزید بلند کرنا ہوگا۔
فخر زمان کے مطابق ٹیم کے اندر مختلف حکمت عملیوں پر کام کیا جا رہا ہے، جن میں سے کچھ پلانز کو خفیہ رکھا گیا ہے تاکہ ورلڈ کپ کے دوران حریف ٹیموں کے خلاف ان کا بہتر استعمال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وائٹ بال کرکٹ میں حالیہ عرصے کے دوران کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور ٹرائی سیریز جیسے ایونٹس ٹیم کے کمبی نیشن کو حتمی شکل دینے میں انتہائی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
ون ڈے کرکٹ کو اپنا پسندیدہ فارمیٹ قرار دیتے ہوئے فخر زمان نے کہا کہ ہر کھلاڑی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ہر میچ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے، تاہم کرکٹ میں ہر روز ایک جیسی فارم برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
انہوں نے شائقین کرکٹ کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب کوئی کھلاڑی میدان میں اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو مداحوں کی جانب سے ملنے والی پذیرائی اسے مزید بہتر کھیلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
فخر زمان نے مزید کہا کہ ٹیم کے کھلاڑیوں نے حال ہی میں ڈومیسٹک سطح پر بھرپور کرکٹ کھیلی ہے، جس سے کھلاڑیوں کی میچ پریکٹس میں اضافہ ہوا ہے اور وہ ورلڈ کپ کے چیلنجز کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی ٹیم ورلڈ کپ میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گی اور شائقین کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سیمی فائنل اور فائنل تک تو پہنچے ہیں، لیکن اب وقت ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ کر ٹرافی جیتنے کی جانب پیش قدمی کریں۔





اپنی رائے دیں