امریکی ریاست مشی گن سے سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان رکن عبدالسید نے 'حبیبی پی اے سی' (Habibi PAC) کے نام سے ایک نئی سیاسی ایکشن کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ پیش رفت ان کی تاریخی انتخابی کامیابی کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔
فیڈرل الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق، یہ کمیٹی ایک لیڈر شپ پی اے سی کے طور پر رجسٹر کی گئی ہے جس کی سرپرستی خود سینیٹر عبدالسید کر رہے ہیں۔ اس طرح کے ادارے سیاست دانوں کی اپنی انتخابی مہم سے الگ کام کرتے ہیں اور دیگر امیدواروں کی حمایت یا مخالفت کے لیے فنڈز جمع کرنے اور خرچ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
کمیٹی کے نام 'حبیبی' کا انتخاب عبدالسید نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا، جو کہ عربی زبان کا ایک پیار بھرا لفظ ہے۔ انہوں نے اپنی فتح کے بعد ڈیٹرائٹ میں کی گئی تقریر میں بھی اسی لفظ کا استعمال کرتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس کو مخاطب کیا تھا اور کہا تھا کہ اس بات میں ایک دلچسپ تضاد ہے کہ وینس کو جنوری میں ان سے حلف لینا پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق، قانون ساز اکثر اپنی سیاسی ساکھ کو مضبوط بنانے اور پارٹی کے اندر اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ایسی لیڈر شپ کمیٹیاں قائم کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے وہ دیگر ارکان اور سیاسی تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کر کے اپنے لیے حمایت ہموار کرتے ہیں اور کمیٹی کی چیئرمین شپ حاصل کرنے میں مدد لیتے ہیں۔
عبدالسید، جو مصری نژاد امریکی ہیں، نے حال ہی میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی تھی۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے سیاست سے پیسے کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا اور اسے اپنی کامیابی کا ایک اہم حصہ قرار دیا تھا۔
ان کی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ، جے ڈی وینس اور سینیٹر ٹیڈ کروز کی جانب سے ان کی وفاداری پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ان پر بغیر کسی ثبوت کے 'جہادی' ہونے کا الزام لگایا گیا اور انہیں مسلم برادر ان تنظیم سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق، عبدالسید کے علاوہ دیگر نو منتخب ڈیموکریٹک ارکان نے بھی حالیہ انتخابات کے بعد اپنی لیڈر شپ کمیٹیاں رجسٹر کرائی ہیں۔ ان میں ایریزونا کے کانگریس مین منتخب ہونے والے امیش شاہ، آئیووا کے سینیٹر منتخب ہونے والے جوش ٹورک اور شمالی کیرولائنا کے سینیٹر منتخب ہونے والے رائے کو پر شامل ہیں۔
عبدالسید نے انتخابی مہم کے دوران عوامی مسائل پر توجہ مرکوز رکھنے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے وائنڈوٹ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو بیرون ملک ایسی حکومتوں پر خرچ کرنے کے بجائے ملکی سطح پر انسانی جانیں بچانے پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس پورے نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ ان کے مطابق ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پیسے اور عوام کی جنگ میں 'عوام' جیت سکتے ہیں۔
موجودہ انتخابی عمل امریکی تاریخ کے مہنگے ترین وسط مدتی انتخابات میں سے ایک رہا ہے۔ اوپن سیکریٹس کے اعداد و شمار کے مطابق، ان انتخابات میں کل اخراجات 11.9 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے جو کہ 2022 میں 8.9 ارب ڈالر تھے۔
ان انتخابات میں سپر پی اے سی کے ذریعے ہونے والے اخراجات 3.9 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جو 2022 کے مقابلے میں 85 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ نامعلوم ذرائع سے آنے والی 'ڈارک منی' بھی 1.47 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
اوپن سیکریٹس کی تحقیق کے مطابق، قدامت پسند گروپوں نے لبرل گروپوں کے مقابلے میں تقریباً 360 ملین ڈالر زیادہ خرچ کیے۔ تاہم توقع ظاہر کی گئی ہے کہ ڈیموکریٹک امیدوار ریپبلکن امیدواروں کے مقابلے میں مجموعی طور پر 800 ملین ڈالر زیادہ خرچ کریں گے۔





اپنی رائے دیں