سابق آسٹریلوی ٹیسٹ اوپنر عثمان خواجہ نے 2018 میں جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران پیش آنے والے بدنامِ زمانہ بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کے حوالے سے نیا انکشاف کیا ہے۔ اپنی آنے والی سوانح عمری 'صبر' میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں موجود پوری ٹیم، بشمول تمام کھلاڑی اور سپورٹ اسٹاف، اس منصوبے سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔
یاد رہے کہ 2018 میں کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران پیش آنے والے اس واقعے کے بعد کرکٹ آسٹریلیا نے تحقیقات کی تھیں، جس کے نتیجے میں صرف تین کھلاڑیوں کو سزا دی گئی تھی۔ اس وقت کے کپتان اسٹیو اسمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنر پر 12 ماہ جبکہ کیمرون بینکرافٹ پر 9 ماہ کی پابندی عائد کی گئی تھی۔
عثمان خواجہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے میچ کے بعد ڈریسنگ روم میں اپنے ساتھیوں پر زور دیا تھا کہ اس معاملے کی ذمہ داری پوری ٹیم کو قبول کرنی چاہیے کیونکہ سب کو معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بال ٹیمپرنگ کے حوالے سے گفتگو پورٹ الزبتھ میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے دوران ہی شروع ہو گئی تھی۔
سابق بیٹر کے مطابق کیمرون بینکرافٹ نے پورٹ الزبتھ ٹیسٹ میں ہی گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی پیشکش کی تھی، تاہم اس وقت اسٹیو اسمتھ اس گفتگو سے الگ ہو گئے تھے جس سے ایسا لگا کہ وہ اس میں ملوث نہیں ہونا چاہتے۔ عثمان خواجہ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کا حصہ ہونے کے باوجود انہیں اصل تحقیقات کے دوران گواہی کے لیے کبھی نہیں بلایا گیا۔
کرکٹ آسٹریلیا نے عثمان خواجہ کے ان دعووں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے ابتدائی تحقیقاتی عمل پر مکمل اعتماد ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت پیش کی گئی تمام متعلقہ معلومات کا درست جائزہ لیا گیا تھا اور بورڈ اپنے شفافیت کے عمل پر مطمئن ہے۔
آسٹریلیا کے موجودہ ٹیسٹ کپتان پیٹ کمنز نے تصدیق کی ہے کہ عثمان خواجہ نے کتاب کی اشاعت سے قبل انہیں اس بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔ کمنز کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ برسوں پہلے نمٹا دیا گیا تھا اور ٹیم اب اس واقعے سے آگے بڑھ چکی ہے۔
واضح رہے کہ 2021 میں پیٹ کمنز، مچل اسٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور ناتھن لیون نے ایک مشترکہ بیان میں اس بات کی تردید کی تھی کہ انہیں ٹیمپرنگ کے منصوبے کا پہلے سے کوئی علم تھا۔ عثمان خواجہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس بحران کے باوجود اس واقعے نے ٹیم کو بعد میں جس ٹن لین گر کی کوچنگ میں عاجزی سیکھنے میں مدد دی۔
عثمان خواجہ نے اپنی کتاب کا یہ باب کیمرون بینکرافٹ، ڈیوڈ وارنر اور اسٹیو اسمتھ کے نام کیا ہے اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان تینوں کھلاڑیوں کو ہی تمام تر سزاؤں کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ عثمان خواجہ نے گزشتہ موسم سرما میں انگلینڈ کے خلاف ایشز سیریز کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔




اپنی رائے دیں