مواد پر جائیں
جمعہ، 6 نومبر 2026 26 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
کراچی: نیا ناظم آباد میں عمارت کا حصہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق، 6 زخمیپاکپتن: بس اور ٹرالر میں تصادم، 11 افراد جاں بحق، 33 زخمیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں روک دیںکرسٹیانو رونالڈو کا انٹرنیشنل فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلانگولف کی دنیا میں ہلچل، لیو گولف (LIV Golf) اپنے آپریشنز بند کرنے پر مجبورفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹرز کا دورہ، آپریشنل تیاریوں پر اطمیناناسٹیٹ بینک کے غیر ملکی ذخائر میں 39 ملین ڈالر کا اضافہ، مجموعی سطح 21.56 ارب ڈالر ہوگئیاسرائیل: نیتن یاہو کی وزارتِ عظمیٰ کی راہ میں رکاوٹیں، گادی آئزن کوٹ کی پوزیشن مضبوطانگلش کاؤنٹی کرکٹ کلب گلوسٹر شائر کا ٹی 20 بلاسٹ کیلئے نام تبدیللاہور: شہری سے کھانے کے پیسے مانگنے والے تین پولیس اہلکار گرفتار، مقدمہ درجچین اور کویت کی جانب سے 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیبرطانیہ میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں ولادیمیر پیوٹن شرکت نہیں کریں گےبرطانوی اداکار رسل برانڈ ریپ اور جنسی حملوں کے مقدمے میں مجرم قرارپردہ دار خواتین کو زیادہ ہراساں کیا جاتا ہے، اداکارہ حنا خواجہ بیات کا انکشافکوزو تاشیما فیفا صدارت کے لیے گیانی انفینٹینو کے مدمقابلپنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے 40 سال سے بچھڑی بنگلہ دیشی خاتون کے اہل خانہ تلاش کر لیےاوگرا کی جانب سے 6 نومبر کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے ریلیف کا امکانوزیراعظم شہباز شریف نے کشمیر چوک انڈر پاس منصوبے کا افتتاح کر دیاسعودی عرب: ینبع میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر سول ڈیفنس کا الرٹ جاریوارنر برادرز کی نئی اینیمیٹڈ فلم دی کیٹ ان دی ہیٹ کا اعلان
دنیا

غزہ: اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہونے والی کمسن فاطمہ البیوک زخموں کی تاب نہ لا سکی

آٹھ سالہ فاطمہ البیوک 2023 میں اپنے پورے خاندان کو کھونے کے بعد زندہ بچ جانے والی اکلوتی فرد تھی جو اب اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہو گئی۔

غزہ: اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہونے والی کمسن فاطمہ البیوک زخموں کی تاب نہ لا سکی

غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ایک اور معصوم زندگی کا چراغ گل ہو گیا ہے۔ آٹھ سالہ فاطمہ البیوک، جو چند روز قبل وسطی غزہ کے شہر دیر البلاح میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئی تھی، ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔

فاطمہ البیوک کی شہادت کی خبر نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ شہید بچی کو ان کے قریبی رشتہ داروں نے انتہائی رنج و غم کے ماحول میں سپرد خاک کر دیا ہے۔ اس المناک واقعے نے ایک بار پھر غزہ میں جاری انسانی بحران کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔

فاطمہ البیوک کی کہانی انتہائی دردناک ہے۔ اکتوبر 2023 میں غزہ پر شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے دوران اس بچی نے اپنے خاندان کے تمام افراد کو کھو دیا تھا۔ حملے کے دو روز بعد، امدادی کارکنوں نے اسے ملبے سے معجزانہ طور پر زندہ نکالا تھا، جس کے بعد اسے اس کی دادی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے اس واقعے نے ایک ایسی بچی کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جو پہلے ہی جنگ کے ہولناک اثرات سے گزر چکی تھی۔ فاطمہ کا زندہ بچ جانا ایک معجزہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب وہ بھی اسرائیلی جارحیت کا شکار ہو گئی ہے۔

غزہ میں جاری اس طویل جنگ کے دوران اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان اعداد و شمار میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے شامل ہیں جو براہ راست حملوں کا نشانہ بنے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا غزہ میں شہریوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی ہے، تاہم زمینی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ غزہ کا تقریباً 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس سے انسانی زندگی کا گزارہ ناممکن ہو گیا ہے۔

گزشتہ سال ہونے والی عارضی جنگ بندی کے باوجود، اسرائیلی کارروائیاں تھم نہ سکیں۔ جنگ بندی کے بعد سے اب تک مزید 1500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں فاطمہ البیوک جیسی معصوم بچیاں بھی شامل ہیں جو محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں تھیں۔

فاطمہ کی شہادت نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو ایک بار پھر متوجہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس بچی کی کہانی کو شیئر کیا جا رہا ہے، جس میں لوگ اس کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے سانحے اور اس کی اپنی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کر رہے ہیں۔

غزہ میں طبی سہولیات کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات اور طبی آلات کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے زخمی ہونے والے افراد کو بروقت علاج فراہم کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ فاطمہ البیوک کی موت بھی اسی بحران کا ایک حصہ ہے۔

عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود، اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ فلسطینی عوام اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہر گزرتا دن ایک نئی آزمائش اور ایک نئے سانحے کو جنم دے رہا ہے۔

فاطمہ البیوک کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔ چاہے وہ رہائشی علاقے ہوں یا پناہ گزین کیمپ، اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور بمباری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

فلسطینی حکام نے عالمی عدالتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں ہونے والی نسل کشی کا نوٹس لیں اور اسرائیل کو ان جرائم سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ فاطمہ جیسی ہزاروں بچیوں کے خون کا حساب لینا عالمی برادری کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں