برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق مانچسٹر یونائیٹڈ کے عارضی ہیڈ کوچ مائیکل کیرک کی زیر قیادت ٹیم نے چیمپئنز لیگ کے ایک اہم میچ میں روما کے خلاف تین کے مقابلے میں دو گول سے کامیابی حاصل کی۔ اولڈ ٹریفورڈ کے میدان پر کھیلے جانے والے اس سنسنی خیز مقابلے میں مانچسٹر یونائیٹڈ نے دو گول کے خسارے کے بعد ناقابل یقین واپسی کی۔
روما کی ٹیم نے میچ کے پہلے ہاف میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے میزبان ٹیم پر دو گول کی برتری حاصل کر لی تھی جس سے اسٹیڈیم کا ماحول بھی کافی دباؤ کا شکار ہو گیا تھا۔ تاہم دوسرے ہاف کے دوران مانچسٹر یونائیٹڈ کے کھلاڑیوں نے جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے روما کی برتری کو ختم کر دیا۔
میچ کے اختتام پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مانچسٹر یونائیٹڈ کے کوچ مائیکل کیرک نے کہا کہ یہ صرف ایک فتح ہے اس لیے وہ اس پر بہت زیادہ جوش میں نہیں آ رہے ہیں لیکن یہ ٹیم کے لیے ایک اہم ترین کامیابی تھی۔ انہوں نے مزید تسلیم کیا کہ کلب کی موجودہ مجموعی حالت کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی یقینی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس فتح نے ان کا مستقبل کتنے عرصے کے لیے محفوظ کیا ہے۔
یونائیٹڈ کے لیے پچھلے نو میچوں اور لگ بھگ آٹھ ہفتوں کے طویل عرصے کے بعد ہوم گراؤنڈ پر یہ پہلی فتح تھی جس نے شائقین کو جشن منانے کا موقع دیا۔ اس سے قبل 25 اکتوبر کو بورنموت کے خلاف ہوم میچ میں تین صفر کی شکست کے بعد کلب ذرائع نے واضح کیا تھا کہ مائیکل کیرک کو حالات کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
ماضی میں سابق کوچز ژوسے مورینہو اور او لے گنار سولسجہ کو بھی ایسے ہی مشکل حالات میں یورپی مقابلوں کے دوران سنسنی خیز فتوحات حاصل ہو چکی ہیں۔ دسمبر 2018 میں ژوسے مورینہو کی ٹیم نے بھی نیوکیسل کے خلاف دو گول کے خسارے کے بعد تین دو سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن وہ اس رفتار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے تھے۔
اسی طرح اکتوبر 2021 میں او لے گنار سولسجہ کی زیر تربیت مانچسٹر یونائیٹڈ نے بھی اٹلانٹا کے خلاف پہلے ہاف میں دو گول سے پیچھے رہنے کے بعد میچ تین دو سے اپنے نام کیا تھا۔ ان دونوں سابق کوچز کی طرح اب مائیکل کیرک کے سامنے بھی سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ اس فتح کی بنیاد پر پریمیئر لیگ میں ٹیم کی کارکردگی کو کیسے بہتر بناتے ہیں۔
پریمیئر لیگ کی موجودہ پوزیشن کا جائزہ لیا جائے تو مائیکل کیرک کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ٹیم کو ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ اگر اگلے مقابلوں میں نتائج یونائیٹڈ کے حق میں نہ رہے تو وہ آسٹن ولا کے خلاف اتوار کو ہونے والے میچ سے قبل پوائنٹس ٹیبل پر انتہائی نیچے جا سکتے ہیں۔
مورینہو اور سولسجہ دونوں ہی اپنی ان یادگار فتوحات کے فوراً بعد اگلا پریمیئر لیگ میچ جیتنے میں ناکام رہے تھے اور دونوں کو بعد میں اپنے عہدوں سے ہٹانا پڑا تھا۔ مانچسٹر یونائیٹڈ نے پچھلے سات پریمیئر لیگ میچوں میں ایک بھی فتح حاصل نہیں کی ہے جو کلب کے لیے ایک تشویشناک امر ہے۔
کلب کے کپتان برونو فرنینڈس نے بھی روما کے خلاف میچ کے آخری لمحات میں فتحیوب گول اسکور کرنے والے میتھیو کُنیا کی بھرپور تعریف کی ہے۔ اس میچ کی کامیابی نے ٹیم کے اندر وقتی طور پر جوش و جذبہ ضرور بحال کیا ہے لیکن لیگ کے میچز میں یہ کارکردگی دہ رانا اصل چیلنج ہوگا۔
آسٹن ولا کے خلاف ہونے والے میچ کے حوالے سے ٹیم کو ایک اور بڑا نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 70 ملین پاؤنڈ کے کھلاڑی کارلوس بیلیبیا زخمی ہو کر کھلاڑیوں کی انجری لسٹ میں شامل ہو چکے ہیں جو آسٹن ولا کے خلاف میچ میں دستیاب نہیں ہوں گے۔
اگر مانچسٹر یونائیٹڈ کی ٹیم آسٹن ولا کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ ٹیبل پر ان سے صرف دو پوائنٹس کے فاصلے پر آ جائیں گے۔ تاہم شکست کی صورت میں ٹیم کم از کم دو ہفتوں کے لیے ریلیکیشن زون کے قریب ترین دائرے میں دھکیلی جا سکتی ہے۔
بین الاقوامی وقفے کے بعد مانچسٹر یونائیٹڈ کو لیورپول کے خلاف سخت مقابلے کے علاوہ دسمبر میں نیوکیسل اور آسنال کے مشکل دورے بھی طے شدہ ہیں۔ مائیکل کیرک نے بارہا میڈیا کے سامنے یہ مؤقف اپنایا ہے کہ یہ صورتحال ان کی ذاتی ذات کے بارے میں نہیں بلکہ کلب کی بہتری کے لیے ہے۔
روما کے خلاف اس شاندار فتح کے بعد بھی مائیکل کیرک کے مستقل کے بارے میں انتظامیہ کی طرف سے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اولڈ ٹریفورڈ کے میدان پر اس ہفتے کے آخر میں ہونے والا مقابلہ مانچسٹر یونائیٹڈ کے مستقبل کی سمت طے کرنے میں انتہائی فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔


اپنی رائے دیں