پاکستان ایک بار پھر عالمی اسکواش مقابلوں کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جہاں کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے کریک کلب میں وینس اے بی سی اوپن اسکواش چیمپئن شپ کا باقاعدہ آغاز بدھ سے ہوگا۔ اس ایونٹ کے لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
اس باوقار چیمپئن شپ کی کل انعامی رقم 82 ہزار ڈالرز مقرر کی گئی ہے۔ ایونٹ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں مردوں اور خواتین کے مقابلے شامل ہیں۔ دونوں کیٹیگریز میں 41، 41 ہزار ڈالرز کی انعامی رقم رکھی گئی ہے جو کھلاڑیوں کے لیے پرکشش ہے۔
پانچ روز تک جاری رہنے والے یہ مقابلے 25 اکتوبر تک جاری رہیں گے۔ ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کے مطابق، پہلے راؤنڈ میں ٹاپ 8 کھلاڑیوں کو بائی ملے گی، جس کے بعد وہ براہ راست پری کوارٹر فائنل مرحلے میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔
مردوں کے ایونٹ میں انگلینڈ کے عالمی نمبر 25 کھلاڑی کرس ملک ٹاپ سیڈ ہوں گے، جبکہ مصر کے عالمی نمبر 48 مصطفی السرتے کو سیکنڈ سیڈ قرار دیا گیا ہے۔ یہ کھلاڑی عالمی سطح پر اپنی مہارت کے لیے جانے جاتے ہیں اور سخت مقابلے کی توقع ہے۔
خواتین کے ایونٹ میں بھی کانٹے دار مقابلے متوقع ہیں۔ انگلینڈ کی عالمی نمبر 27 لوسی ٹرمل ٹاپ سیڈ کے طور پر میدان میں اتریں گی، جبکہ مصر کی عالمی نمبر 46 امینہ الریحانے سیکنڈ سیڈڈ کھلاڑی ہوں گی۔ عالمی درجہ بندی کے حامل کھلاڑیوں کی شرکت سے ایونٹ کا معیار بلند رہے گا۔
پاکستان کی جانب سے بھی کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد ان مقابلوں میں حصہ لے رہی ہے۔ مردوں کے ایونٹ میں عاصم خان، عبداللہ نواز، ناصر اقبال اور اذان علی خان اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے ایکشن میں دکھائی دیں گے۔
خواتین کے مقابلوں میں پاکستان کی جانب سے ثنا بہادر براہ راست جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ پشاور سے تعلق رکھنے والی ثنا بہادر کی شرکت اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ وہ سماعت اور قوت گویائی سے محروم ہونے کے باوجود اپنی محنت سے اس مقام تک پہنچی ہیں۔
ثنا بہادر کے علاوہ پاکستان کی رشنا محبوب اور انعم عزیز بھی اس چیمپئن شپ کا حصہ ہوں گی۔ ان دونوں کھلاڑیوں کو وائلڈ کارڈ انٹری کے ذریعے مقابلوں میں شرکت کا موقع فراہم کیا گیا ہے، جس سے انہیں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا بہترین موقع ملے گا۔
اسکواش کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے عالمی ایونٹس کا انعقاد پاکستان میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد سے مقامی کھلاڑیوں کو بھی عالمی معیار کے حریفوں کے خلاف کھیلنے کا تجربہ حاصل ہوگا۔
کریک کلب کراچی کو اس چیمپئن شپ کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انتظامیہ کی جانب سے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے تاکہ ایونٹ کو کامیاب بنایا جا سکے۔
پاکستان اسکواش فیڈریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے اس چیمپئن شپ کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ ٹورنامنٹ نہ صرف شائقین کے لیے دلچسپ ہوگا بلکہ پاکستان میں اسکواش کے کھیل کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔
اسکواش کی تاریخ میں پاکستان کا نام ہمیشہ نمایاں رہا ہے اور اس طرح کے ایونٹس سے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ مقامی شائقین کو امید ہے کہ قومی کھلاڑی اس چیمپئن شپ میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ملک کا نام روشن کریں گے۔
شائقین اسکواش اس ایونٹ کو لے کر کافی پرجوش ہیں اور توقع ہے کہ کراچی کے کریک کلب میں بڑی تعداد میں تماشائی اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے موجود ہوں گے۔ یہ ایونٹ پاکستان کی عالمی کھیلوں میں ساکھ کو مزید مستحکم کرے گا۔




اپنی رائے دیں