پاکستان تحریک انصاف نے اڈیالہ جیل میں قید پارٹی کے بانی عمران خان کی بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق یہ مطالبہ عمران خان کے بلڈ پریشر میں غیر معمولی اضافے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے، جہاں ان کا بلڈ پریشر ایک سو بانوے تک پہنچ جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یہ معاملہ عمران خان کی ہمشیرہ روبینہ خان کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جو انہوں نے دو نومبر کو جیل میں ہونے والی ملاقات کے حوالے سے جاری کیا۔
روبینہ خان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کو ماضی میں کبھی ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ نہیں رہا اور ایک سال قبل تک ان کی طبی رپورٹ بالکل نارمل تھی۔
خاندان کے مطابق ستر سال سے زائد عمر کے شخص میں اس نوعیت کے بلڈ پریشر کا اچانک بڑھ جانا طبی اعتبار سے غیر معمولی بات ہے۔
روبینہ خان نے مزید دعویٰ کیا کہ اڈیالہ جیل میں حکام کی جانب سے مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور ملاقاتوں کے حوالے سے بھی رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے ایک موثر حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پارٹی اس معاملے پر جذباتی ردعمل کی بجائے تمام مجاز فورمز سے مشاورت کے بعد ملک اور بیرون ملک بھرپور آواز اٹھائے گی۔
پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کا تحفظ ریاست اور پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ مناسب طبی سہولیات سے محروم رکھ کر ملک کے مقبول ترین رہنما کی زندگی کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا جس میں مبینہ طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کی ہدایت کی گئی تھی۔
خاندان اور پارٹی عہدیداران نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی اور دیگر سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کرے تاکہ سیاسی تناؤ میں کمی لائی جا سکے۔


اپنی رائے دیں