مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 3:57
بریکنگ
مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلانجدہ ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن 45 منٹ کی معطلی کے بعد بحالمالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو 20 تا 22 اکتوبر پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گےلاہور کے گلاب دیوی اسپتال میں ہنگامہ، ڈاکٹرز اور لواحقین میں جھگڑاپی آئی اے کا بوئنگ 777 طیاروں میں نئی بزنس کلاس سیٹیں نصب کرنے کا فیصلہامریکی سفارتخانے کی رپورٹس میں تبدیلیاں، نیتن یاہو حکومت کو بچانے کا انکشافبابر اعظم نے بین الاقوامی کرکٹ میں سولہ ہزار رنز مکمل کر لیےکم عمر نوجوانوں میں پروٹین پاؤڈر کا بڑھتا رجحان اور طبی خطراتپاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں راولپنڈی میں آمنے سامنےکراچی: رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، بین الصوبائی انسانی اسمگلر گرفتاردانش اسکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریفاسلام آباد میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات پر ہفتہ وار بازار غیرمعینہ مدت کے لیے بندپیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی میں داخلوں کا نیا ریکارڈ قائماسلام آباد کے اتوار بازار فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے پر بند، دکانداروں کا احتجاجکوئٹہ کی پولیو متاثرہ پلوشہ شہزادی نے ہائی کورٹ کی وکیل بن کر تاریخ رقم کر دیخیبرپختونخوا: سابقہ حکومت کی پالیسیوں سے تعلیمی شعبہ زبوں حالی کا شکارآٹھ ڈالر سے سفر شروع کرنے والے پریم وتس بینک خریدنے کے قریبقاضی توقیر کے ستارے چمک اٹھے، ساجد خان کی جانب سے گانوں کی پیشکشسانحہ کارساز کو انیس برس مکمل، بلاول بھٹو کا جمہوریت کے تسلسل پر زوربالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے کرینہ کپور کو کتنی بار پروپوز کیا؟
پاکستان

لاہور میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے رکشہ ڈرائیونگ ٹریننگ پروگرام شروع

ٹریفک پولیس نے یونیورسٹیوں کے تعاون سے خواتین کو رکشہ چلانے کی تربیت دینا شروع کر دی ہے۔

لاہور میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے رکشہ ڈرائیونگ ٹریننگ پروگرام شروع

لاہور کے شہریوں کے لیے روزگار کے نئے اور منفرد مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں ٹریفک پولیس کی جانب سے ایک انتہائی خوش آئند قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس فلاحی اقدام کا بنیادی مقصد خواتین کو معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور انہیں معاشرے کا ایک مفید اور فعال رکن بنانا ہے۔

موجودہ دور میں معاشی خودمختاری ہر فرد کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے، اسی امر کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک پولیس نے یہ خصوصی تربیتی پروگرام ترتیب دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت خواتین کو ڈرائیونگ کے جدید اور محفوظ اصول سکھائے جا رہے ہیں تاکہ وہ خود اعتمادی کے ساتھ سڑکوں پر سفر کر سکیں۔

جامعات اور تعلیمی اداروں کے باہمی اشتراک اور تعاون سے شروع کیے جانے والے اس پروگرام کو عوامی سطح پر بھی بے حد سراہا جا رہا ہے۔ اس اشتراک کا مقصد زیادہ سے زیادہ طالب علموں اور نوجوان خواتین تک رسائی حاصل کرنا ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی حاصل کر سکیں۔

ابتدائی مرحلے کے دوران ٹریفک پولیس کے منظور شدہ تربیتی اداروں میں خواتین کو خصوصی توجہ دی گئی تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اس نئے شعبے کو اپنا سکیں۔ ماہر اور تجربہ کار انسسٹرز نے اس بات کو یقینی بنایا کہ سیکھنے کا عمل انتہائی دوستانہ اور آسان ہو۔

موصولہ مصدقہ تفصیلات کے مطابق، بحریہ ٹاؤن میں قائم ٹریفک پولیس کے ڈرائیونگ اسکول میں خواتین کو رکشہ چلانے کی عملی تربیت فراہم کی گئی۔ اس اسکول میں جدید سہولیات کی فراہمی نے سیکھنے کے عمل کو مزید موثر اور تیز تر بنا دیا ہے۔

بحریہ ٹاؤن کے ساتھ ساتھ مناواں میں واقع ٹریفک پولیس کے ڈرائیونگ اسکول میں بھی اس کورس کا باقاعدہ انعقاد کیا گیا جہاں خواتین کو پروفیشل ڈرائیورز کی نگرانی میں تربیت دی گئی۔ دونوںمراکز میں خواتین نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔

اس تربیتی پروگرام کے پہلے مرحلے کے دوران مجموعی طور پر چونتیس خواتین نے کامیابی کے ساتھ رکشہ چلانے کی تربیت مکمل کی۔ یہ تمام خواتین اب نہ صرف ٹریفک قوانین سے مکمل طور پر آگاہ ہیں بلکہ عملی طور پر رکشہ چلانے کی ماہر بھی بن چکی ہیں۔

تربیت کی کامیابی سے تکمیل پر چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) سید عبدالرحیم شیرازی نے ان تمام خواتین سے خصوصی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے خواتین کے بلند حوصلے اور عملی میدان میں قدم رکھنے کے عزم کی کھل کر تعریف کی۔

ملاقات کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف ٹریفک آفیسر سید عبدالرحیم شیرازی نے کہا کہ تربیت مکمل کرنے والی یہ تمام خواتین اب خود رکشہ چلا کر باعزت روزگار کما سکیں گی۔ یہ قدم ان کے خاندانوں کے لیے بھی معاشی استحکام کا باعث بنے گا۔

سی ٹی او سید عبدالرحیم شیرازی نے اپنے خیالات کا اظہار جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ جب معاشرے کی نصف آبادی یعنی خواتین معاشی طور پر بااختیار ہوں گی تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں ایک واضح اور مثبت تبدیلی آئے گی۔

معاشرتی اور سماجی ترقی کے عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی ترقی کے لیے صرف مردوں کا نہیں بلکہ خواتین کا فعال کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عورتوں کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔

ٹریفک پولیس کے اس اقدام سے نہ صرف خواتین میں خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی ایک نیا رجحان پیدا ہوگا۔ اس سے شہر میں خواتین مسافروں کے لیے محفوظ سفر کی سہولیات میں بھی بہتری متوقع ہے۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے فلاحی پروگراموں کا دائرہ کار مستقبل میں مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سے مستفید ہو سکیں۔ اس نوعیت کے تربیتی کورسز سے ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں