ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج پورے خطے کیلئے ناقابل تلافی ہوں گے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا غلط اندازے کا شکار ہونے سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ ایسی کوئی بھی کارروائی پورے خطے کو ایک بڑی تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے جس کے اثرات طویل المدتی ہوں گے۔
ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایرانی قوم اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کو قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے کافی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نام نہاد 'مدر آف آل بم' جیسی دھمکیوں کا استعمال کر کے ایران کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی دھمکیاں دینے والے درحقیقت اپنی کمزوری کا اظہار کرتے ہیں اور ایران ایسی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیاسی اور سفارتی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ تہران کا موقف رہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے غیر ملکی مداخلت کا خاتمہ اور باہمی احترام ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کے تصادم سے بچا جا سکے۔
ابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور خطے کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا قیام ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کی سلامتی کو نشانہ بنایا گیا تو تہران خاموش تماشائی نہیں بنے گا اور سخت جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عالمی طاقتوں کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ایران نے بارہا کہا ہے کہ خطے کی سلامتی صرف علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے اور بیرونی مداخلت صرف مسائل میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے چیئرمین کا یہ بیان تہران کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی قومی سلامتی کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہے۔ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
آخر میں، ابراہیم عزیزی نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کی سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کا خمیازہ پورے خطے کو بھگتنا پڑے گا، اس لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ خطے کو کسی بھی بڑی تباہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اپنی رائے دیں