پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان شان مسعود نے نوجوان اوپننگ بلے بازوں اذان اویس اور عبداللہ فضل کی ٹیسٹ کرکٹ میں صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ دونوں ابھرتے ہوئے کھلاڑی مستقبل میں قومی ٹیم کے لیے طویل فارمیٹ میں مستقل مزاجی کے ساتھ رنز بنانے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں۔
اذان اویس نے رواں سال اپنے ٹیسٹ ڈیبیو پر شاندار سنچری اسکور کی تھی۔ انہوں نے اب تک پاکستان کی جانب سے 7 ٹیسٹ میچوں میں شرکت کی ہے، جس میں وہ 25.50 کی اوسط سے مجموعی طور پر 357 رنز بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔
دوسری جانب عبداللہ فضل نے بھی اپنے مختصر ٹیسٹ کیریئر میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اب تک 2 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، جن میں 35.25 کی اوسط سے 141 رنز بنائے ہیں، جس میں دو نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔
شان مسعود نے ان نوجوان کھلاڑیوں کے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں اصل چیلنج مستقل مزاجی کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کھلاڑیوں میں وہ تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں جن کی بدولت وہ طویل فارمیٹ میں خود کو منوا سکتے ہیں۔
سابق کپتان کے مطابق، ٹیسٹ کرکٹ میں طویل عرصے تک خود کو ثابت کرنے کے لیے مسلسل کارکردگی دکھانا ناگزیر ہے اور انہیں یقین ہے کہ یہ دونوں کھلاڑی اس معیار پر پورا اترنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں منعقد ہونے والی ون ڈے سہ فریقی سیریز کے لیے ان دونوں کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد سلیکٹرز نے آئندہ کی مصروفیات کے پیشِ نظر اسکواڈ میں تبدیلیاں کی ہیں۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز کل 9 نومبر سے ہو رہا ہے جو 21 نومبر تک جاری رہے گی۔ اس اہم سیریز کے میچز راولپنڈی اور لاہور کے اسٹیڈیمز میں کھیلے جائیں گے۔
سلیکٹرز کی جانب سے سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم میں کی گئی تبدیلیوں کے بعد اذان اویس کو ٹیسٹ اسکواڈ میں برقرار رکھا گیا ہے۔ تاہم، عبداللہ فضل کو ٹیم میں جاری ردوبدل کے باعث اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا ہے۔
قومی ٹیسٹ اسکواڈ کی قیادت بابر اعظم کر رہے ہیں۔ ٹیم میں شامل دیگر کھلاڑیوں میں عامر جمال، علی شبیر، عرفات منہاس، محمد عباس، غازی غوری، محمد سلیمان، محمد طحہ، طیب عارف، رضا اللہ، سعد بیگ، سلمان علی آغا، سمیر منہاس، ثاقب خان اور سعود شکیل شامل ہیں۔
ٹیم انتظامیہ اور سلیکشن کمیٹی کی جانب سے ان کھلاڑیوں پر توجہ دینے کا مقصد ٹیسٹ فارمیٹ میں بیٹنگ لائن اپ کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے سے ٹیم میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سری لنکا کے خلاف یہ سیریز پاکستان کے لیے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ اور دیگر عالمی مقابلوں کی تیاریوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ کھلاڑیوں کی کارکردگی پر شائقین کی نظریں مرکوز ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے سیریز کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ راولپنڈی اور لاہور میں ہونے والے ان مقابلوں کے لیے سیکیورٹی اور دیگر سہولیات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔





اپنی رائے دیں