انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے سیکیورٹی بریچ کیس میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے باضابطہ طور پر رجوع کر لیا ہے۔
جمعہ کے روز دائر کی گئی ان الگ الگ درخواستوں میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا کو معطل کیا جائے تاکہ اپیل پر فیصلے تک اسے نافذ نہ کیا جا سکے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے نامور وکلاء فیصل صدیقی، ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ نے عدالت میں یہ اپیلیں دائر کیں۔
اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے اس کیس میں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا اور فیصلے تک پہنچنے کے عمل میں متعدد قانونی خامیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
درخواست گزاروں کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے اور اس میں شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا گیا، جس کی وجہ سے سزا کو کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ان درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت سزا کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کرے اور حتمی فیصلہ آنے تک سزا پر عمل درآمد روک دیا جائے۔
یہ کیس سیکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت قائم کیا گیا تھا جس پر ٹرائل کورٹ نے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد فیصلہ سنایا تھا۔
اب اسلام آباد ہائی کورٹ ان درخواستوں پر سماعت کرے گی جس میں سزا کے خلاف قانونی دلائل پیش کیے جائیں گے اور عدالت فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کرے گی۔
عدالت عالیہ کی جانب سے ان درخواستوں پر سماعت کے لیے آئندہ کی تاریخ مقرر کی جائے گی جس میں سزا کی معطلی کے معاملے پر بحث کی جائے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کرنا ایک معمول کی قانونی کارروائی ہے جس کے تحت ملزمان اپنی صفائی میں دلائل دینے کا حق رکھتے ہیں۔
اس کیس سے متعلق مزید پیش رفت کا انحصار اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ کے فیصلوں پر ہوگا جو ان اپیلوں کی سماعت کرے گا۔



اپنی رائے دیں