امریکہ اور قطر کی اعلیٰ ترین سطح پر سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں اور اسی سلسلے میں اہم رابطہ سامنے آیا ہے۔
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔
اس ٹیلی فونک گفتگو کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور بحران کا خاتمہ لانا تھا۔
قطری حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
بیان میں بتایا گیا کہ گفتگو کا محور مشرق وسطیٰ کے بحران کو ختم کرنے کے لیے جامع معاہدے تک پہنچنا تھا۔
امریکہ اور قطر کے سربراہان نے اس مقصد کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔
قطر خطے کے اس تنازع اور بحران کے پرامن حل کے لیے فریقین کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے گفتگو کے دوران خطے میں مزید کشیدگی سے گریز کرنے کی شدید ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بحران کے دوران جہاز رانی کی آزادی کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
قطری امیر نے توانائی کی ترسیل کے تحفظ کی ضرورت پر بھی خصوصی طور پر تاکید کی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس رابطے کے دوران جوہری معاملے پر بھی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔
ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ یہ تجویز جوہری معاملے سے متعلق ہے جسے قطری توسط سے واشنگٹن تک پہنچایا گیا۔
واشنگٹن کی حکومت فی الحال اس ایرانی تجویز کا گہرائی سے جائزہ لے رہی ہے۔
تاہم ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر کسی بھی قسم کی باضابطہ بات چیت کا انحصار ایک شرط پر ہے۔
یہ شرط اس بات سے جڑی ہے کہ امریکہ پہلے ایران کے پیش کردہ سات مطالبات کو پورا کرے۔
ایرانی عہدیدار نے اپنے بیان میں ان سات مطالبات کی تفصیلی وضاحت یا وضاحت پیش نہیں کی۔
ماہرین اور مبصرین کے مطابق اس تمام پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کا انحصار فریقین کے مؤقف میں لچک اور پیش رفت پر ہوگا۔
اس رابطے کے بعد خطے میں سفارتی سطح پر نئی ہلچل شروع ہو گئی ہے اور عالمی برادری کی نظریں اس ثالثی پر ٹکی ہوئی ہیں۔



اپنی رائے دیں