امریکی شہر لاس اینجلس کے میئر کے انتہائی اہم انتخابی معرکے میں سٹی کونسل کی رکن نیتھیا رامن نے موجودہ میئر کیرین باس کو شکست سے دوچار کر دیا ہے۔ اس فتح کے بعد وہ اس دوسرے بڑے امریکی شہر کی قیادت کرنے والی پہلی جنوبی ایشیائی شخصیت بن گئی ہیں۔
جمعرات کے روز ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نیتھیا رامن نے 52 فیصد ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا۔ ان کی اس کامیابی کو سیاسی تجزیہ کاروں نے ایک بڑا سیاسی اپ سیٹ قرار دیا ہے کیونکہ وہ اس دوڑ میں ایک کمزور امیدوار کے طور پر داخل ہوئی تھیں۔
کیرین باس، جو اس سے قبل کانگریس کی رکن بھی رہ چکی ہیں، کو ریاست کی بڑی سیاسی شخصیات کی حمایت حاصل تھی۔ ان کے حامیوں میں کیلیفورنیا کے گورنر گی ون نیوسم اور سابق نائب صدر کمالہ ہیرس جیسی نامور شخصیات شامل تھیں۔
کیرین باس نے اپنے ایک بیان میں شکست تسلیم کرتے ہوئے نیتھیا رامن کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ شہر کو آگے بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اگرچہ یہ نتیجہ ہمارے توقعات کے مطابق نہیں ہے مگر لاس اینجلس کے عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
نیتھیا رامن کی انتخابی مہم کو ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کی بھرپور تائید حاصل تھی۔ ان کی یہ کامیابی بائیں بازو کی سیاسی تحریک کی ملک بھر میں بڑھتی ہوئی اثر و رسوخ کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
انتخابی مہم کے دوران نیتھیا رامن نے شہر میں ہاؤسنگ کے مسائل حل کرنے اور بے گھر افراد کے لیے طبی ٹیمیں تعینات کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ ہمارے بوسیدہ اور غیر منصفانہ نظام نے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ ہم اس سے بہتر کچھ نہیں کر سکتے۔
شکست کھانے والی کیرین باس گزشتہ دو دہائیوں میں اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھنے والی لاس اینجلس کی پہلی میئر بن گئی ہیں۔ ان کے دورِ اقتدار میں شہر کے بے گھر افراد کے بحران اور گزشتہ برس کے خطرناک جنگلات کی آگ کے دوران بروقت اقدامات نہ کرنے پر شدید تنقید کی گئی تھی۔
اس انتخابی نتیجے کے بعد اب امریکا کے دو سب سے بڑے شہروں نیویارک اور لاس اینجلس کی باگ ڈور ڈیموکریٹک سوشلسٹس کے پاس آ گئی ہے۔ نیتھیا رامن اب 3.8 ملین سے زائد آبادی والے اس شہر میں اپنے وعدوں کو عملی جام پہنانے کے چیلنج کا سامنا کریں گی۔
شہر کو آنے والے برسوں میں اہم تقریبات کی میزبانی بھی کرنا ہے جن میں 2027 کا سپر باؤل اور 2028 کے اولمپک کھیل شامل ہیں۔ انتخابی نتائج کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تاریخی پس منظر کو دیکھا جائے تو بائیں بازو کے ان سیاستدانوں کی فتوحات مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔


اپنی رائے دیں