بھارتی کرکٹ ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف تین میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز کے افتتاحی میچ میں کامیابی حاصل کر کے سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی ہے۔ آکلینڈ کے ایڈن پارک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس مقابلے میں بھارتی ٹیم نے ہر شعبے میں حریف ٹیم پر غلبہ برقرار رکھا۔
میچ کے دوران بارش کے باعث کھیل کئی بار تعطل کا شکار ہوا، جس کی وجہ سے میچ کو محدود کرنا پڑا۔ بارش کے وقفوں کے بعد ڈک ورتھ لوئس اسٹرن (ڈی ایل ایس) طریقہ کار کا اطلاق کیا گیا، جس کے تحت بھارت کو جیت کے لیے 143 رنز کا ہدف ملا۔
بھارتی ٹیم نے مطلوبہ ہدف 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ بھارتی بیٹرز نے محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے ہدف کا تعاقب مکمل کیا اور سیریز کا فاتحانہ آغاز کیا۔
بھارتی ٹیم کے تجربہ کار بلے باز وی رات کوہلی نے اپنی شاندار فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے 51 گیندوں پر 74 رنز کی اننگز کھیلی۔ یہ اننگز ان کے ون ڈے انٹرنیشنل کیریئر کی 80 ویں نصف سنچری ثابت ہوئی۔
وی رات کوہلی اپنی 38 ویں سالگرہ سے ایک روز قبل اس کارکردگی کے ساتھ میدان میں اترے تھے۔ انہوں نے بیٹنگ کے علاوہ فیلڈنگ میں بھی غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا اور ایک مشکل کیچ پکڑ کر ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
میچ کے دوران بھارتی فاسٹ بولرز نے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں پر شروع سے ہی دباؤ برقرار رکھا۔ بھارتی پیس اٹیک کی جانب سے کی گئی درست لائن اور لینتھ نے کی وی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔
بھارتی ٹیم کی فیلڈنگ اور کپتانی کے شعبوں میں بھی کارکردگی نمایاں رہی۔ بھارتی فیلڈرز نے انتہائی مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف ٹیم کو بڑے اسکور تک پہنچنے سے روکے رکھا۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم بھارتی بولرز کے سامنے جم کر نہ کھیل سکی اور ان کی بیٹنگ لائن اپ بھارتی پیس اٹیک کے سامنے مشکلات کا شکار رہی۔ کی وی بلے باز بھارتی بولنگ کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔
ایڈن پارک کی وکٹ پر بھارتی بولرز نے انتہائی نپی تلی بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ بھارتی ٹیم کی جانب سے دکھائے گئے اس نظم و ضبط نے میچ کے نتائج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
یہ میچ بھارتی ٹیم کے لیے ایک اہم کامیابی ہے جس نے سیریز کے آغاز میں ہی نفسیاتی برتری حاصل کر لی ہے۔ بھارتی ٹیم کی جانب سے دکھائی گئی حکمت عملی نے شائقین کرکٹ کو متاثر کیا ہے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا اگلا میچ اب اگلے مرحلے میں کھیلا جائے گا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم سیریز میں واپسی کے لیے اپنی غلطیوں کو سدھارنے اور حکمت عملی میں تبدیلی لانے کے لیے کوشاں ہوگی۔




اپنی رائے دیں