جمعرات کے روز بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے ساتھ کاروبار کا آغاز متوقع ہے، جس کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے مارکیٹ کے مثبت رجحان کی توقعات ظاہر کی جا رہی ہیں۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں دو ماہ کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ قیمتوں میں اس کمی کا اثر براہ راست عالمی مالیاتی منڈیوں پر مرتب ہو رہا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اس معاشی رجحان کے پیچھے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کو ایک اہم محرک قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین اور سرمایہ کار اس تبدیلی کو عالمی سیاست میں ایک نئے موڑ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ اس جغرافیائی سیاسی صورتحال میں بہتری کے امکانات نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔
گفٹ نفٹی فیوچرز (GIFT Nifty futures) 24,295.5 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بینچ مارک نفٹی 50 انڈیکس کے لیے ایک مثبت آغاز کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔
گزشتہ روز یعنی بدھ کے اختتام پر نفٹی 50 انڈیکس 23,960.6 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ آج کے متوقع مثبت آغاز کے بعد انڈیکس میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
مارکیٹ کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بدھ کے روز بھارتی شیئرز میں بھرپور دلچسپی ظاہر کی تھی۔ ان سرمایہ کاروں نے مجموعی طور پر 72.84 ارب بھارتی روپے مالیت کے شیئرز کی خریداری کی تھی۔
امریکی ڈالر کے تناظر میں دیکھا جائے تو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے کی گئی یہ سرمایہ کاری تقریباً 769.65 ملین ڈالر بنتی ہے۔ یہ بڑی مقدار میں سرمایہ کاری مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر ایشیائی منڈیوں پر بھی نمایاں ہے۔ بھارت جیسے ممالک، جو تیل درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں، کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں کمی معاشی استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اسی طرح کم سطح پر برقرار رہیں تو اس سے بھارتی کمپنیوں کے منافع میں اضافے کا امکان ہے۔ خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کو اس سے براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
تاہم، سرمایہ کاروں کی نظریں اب بھی امریکی پالیسیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔ کسی بھی قسم کی نئی پیش رفت مارکیٹ کے رجحان کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔


اپنی رائے دیں