مواد پر جائیں
بدھ، 4 نومبر 2026 24 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
اپ ڈیٹ: شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد کے جیل ٹرائل کی سماعت ملتویمانچسٹر یونائیٹڈ کے کوچ مائیکل کیرک کو روما کے خلاف فتح کے باوجود چیلنجز کا سامناسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: پاکستان کی جانب سے تیز پچز تیار کرنے کا فیصلہوفاقی کابینہ نے 10 روپے کا سکہ جاری کرنے اور نئے کرنسی ڈیزائن کی منظوری دیدینیب اور ایف آئی اے کا اسعد محمود کو غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر طلبدبئی میں باکسنگ مقابلے سے قبل فیس آف کے دوران بھارتی فائیٹر نے پاکستانی حریف کو تھپڑ جڑ دیااقبال ڈے پر عام تعطیل: ملک بھر کے بینک مسلسل تین روز بند رہیں گےایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر اختلافات برقرار ہیںامریکی ریاست ٹیکساس میں ڈیموکریٹک پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کر لیوزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول پر ریلیف نہ دینے والے پمپس کے خلاف کارروائی کا حکمسوی سدرن گیس کمپنی نے موسم سرما کے لیے گیس فراہمی کا شیڈول جاری کر دیابابا وانگا کی پیشگوئی اور خلا سے موصول سگنل، حقیقت کیا ہے؟امریکی وسط مدتی انتخابات 2026: ڈیموکریٹس کی اہم ریاستوں میں کامیابیڈبلیو ٹی اے فائنلز: رائبی کینا اور کو کو گاف ایک ہی گروپ میں شاملآبنائے ہرمز پر کشیدگی: ایران کا امریکی جواب مسترد، امریکی صدر کی فضائی کارروائی کی تصدیقفل فوڈن اپنی بہترین فارم کی بحالی کے لیے پرعزمعبدال السید امریکی ریاست مشی گن سے سینیٹر منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئےغزہ میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر آدم حموی امریکی کانگریس کے رکن منتخبامریکی انتخابات: ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیکیشا لانس باٹمز امریکی ریاست جارجیا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب
جرم و سزا

اسلام آباد میں خودکشی کیس کا ملزم مانسہرہ میں بھی فراڈ کا اشتہاری نکلا

ملزم محمد نعمان نے خود کو آئی ایس آئی کا افسر ظاہر کر کے ایک خاندان سے نوکریوں کے نام پر لاکھوں روپے بٹورے تھے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حال ہی میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔ لائبہ اعجاز نامی طالبہ کی خودکشی کے کیس میں گرفتار مرکزی ملزم محمد نعمان کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ مانسہرہ پولیس کو بھی ایک بڑے فراڈ کیس میں مطلوب تھا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم محمد نعمان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر مانسہرہ میں ایک خاندان کے 12 افراد کو پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی میں نوکری دلوانے کا جھانسہ دیا تھا۔ ملزمان نے اس کام کے عوض متاثرہ خاندان سے 85 لاکھ روپے کی خطیر رقم وصول کی تھی۔

اس فراڈ کا واقعہ جولائی 2024 میں پیش آیا تھا، جس کا مقدمہ اگست 2026 میں مانسہرہ کے تھانہ سٹی میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں ملزم نعمان، اس کے بھائی وقاص اور دو دیگر افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزم نعمان گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش تھا اور اسے اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔

متاثرین کے مطابق ملزمان نے خود کو بااثر ظاہر کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنے تعلقات کی بنیاد پر آرمی اور خفیہ اداروں میں بھرتیاں کروا سکتے ہیں۔ ملزمان نے متاثرین کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے جعلی اپائنٹمنٹ لیٹرز بھی جاری کیے تھے، جن کی حقیقت بعد میں کھل کر سامنے آئی۔

متاثرہ خاندان کے سربراہ سلطان محمد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ملزمان کو ایک کروڑ روپے سے زائد رقم دی تھی، تاہم 85 لاکھ روپے کا دستاویزی ریکارڈ موجود ہونے کے باعث ایف آئی آر میں یہی رقم درج کی گئی۔ جب متاثرین نے راولپنڈی کے چکلالہ کینٹ میں ان لیٹرز کی تصدیق کروائی تو وہ جعلی ثابت ہوئے۔

سلطان محمد نے مزید بتایا کہ رقم کی واپسی کا مطالبہ کرنے پر ملزمان نے پہلے حیلے بہانے کیے اور بعد ازاں روپوش ہو گئے۔ انہوں نے ایف آئی اے اور پولیس کو درخواستیں دیں، جس کے بعد طویل قانونی عمل کے بعد مقدمہ درج کیا گیا اور دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق لائبہ اعجاز کیس کی تفتیش کے دوران ملزم نعمان سے ہونے والی پوچھ گچھ میں یہ تمام حقائق سامنے آئے۔ ملزم اس وقت پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

یاد رہے کہ لائبہ اعجاز کیس میں بھی ملزم نے خود کو سپریم کورٹ کا ملازم ظاہر کر کے طالبہ اور اس کے اہلخانہ سے امریکہ میں داخلہ دلوانے کے نام پر 50 لاکھ روپے بٹورے تھے۔ دستاویزات جعلی ثابت ہونے پر دلبرداشتہ ہو کر طالبہ نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم محمد نعمان ایک عادی دھوکے باز ہے جو مختلف سرکاری اداروں کے نام استعمال کر کے لوگوں کو لوٹنے کا کام کرتا رہا ہے۔ اس کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد اب مزید اہم معلومات ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

مانسہرہ میں درج مقدمے کے دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں ماتحت عدالتوں سے مسترد ہو چکی ہیں، جس کے بعد انہوں نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق تمام ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

اس کیس نے ایک بار پھر عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ نوکریوں یا بیرون ملک بھجوانے کے نام پر کسی بھی غیر تصدیق شدہ شخص پر بھروسہ نہ کریں۔ سرکاری اداروں میں بھرتیاں ہمیشہ شفاف اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے ہی کی جاتی ہیں۔

تفتیشی ٹیمیں اب اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ ملزم نے اس طرح کے کتنے مزید فراڈ کیے ہیں اور اس کے نیٹ ورک میں کون کون شامل ہے۔ پولیس نے متاثرین سے اپیل کی ہے کہ وہ سامنے آئیں تاکہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

لائبہ اعجاز کیس نے وفاقی دارالحکومت میں ایک لہر دوڑا دی تھی، جس کے بعد وزیر داخلہ نے بھی نوٹس لیا تھا۔ پولیس کی جانب سے اس کیس کو میرٹ پر حل کرنے اور ملزمان کے ماضی کے جرائم کو سامنے لانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

جرم و سزا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں