مواد پر جائیں
جمعہ، 6 نومبر 2026 26 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
کراچی: نیا ناظم آباد میں عمارت کا حصہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق، 6 زخمیپاکپتن: بس اور ٹرک میں تصادم، 11 جاں بحق، 6 زخمی ساہیوال ریفرلاس اینجلس کے میئر کے انتخاب میں نیتھیا رامن نے معرکہ جیت لیاآسٹریلوی کرکٹر کرس لین ایک ماہ کی پابندی کا شکارالیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 7 فروری کو کرانے کا فیصلہ کر لیابجلی صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاریامریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹیکنالوجی اسٹاکس میں بڑی گراوٹپاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کی این او سی پالیسی میں ترمیم کر دیہالی وڈ اداکار میٹ ڈی من کی اہلیہ لوسیانا باروسو کی برین اینیوریزم سرجری کا انکشافویمنز بگ بیش لیگ: چار لی ناٹ کی سنچری سے برس بین ہیٹ کا 706 روزہ قحط ختمامریکی ریاست کیلیفورنیا: گورنر گی ون نیوسم نے سزائے موت کے تمام 548 قیدیوں کی سزائیں عمر قید میں بدل دیںوزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہاسلام آباد: جے 60 جونیئر ٹینس چیمپئن شپ کے ڈبلز فائنل میں پاکستانی جوڑیوں کا مقابلہوفاقی اور صوبائی حکومتوں کا 9 نومبر کو یومِ اقبال پر عام تعطیل کا اعلانسلامتی کونسل نے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر مبنی بیان متفقہ طور پر منظور کر لیاکراچی: شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ سے 9 سالہ بچہ جاں بحقگنی بساؤ میں متنازع ہیپاٹائٹس بی ویکسین ٹرائل منسوخبرطانوی کامیڈین رسل برانڈ زیادتی اور جنسی ہراسانی کے مقدمے میں مجرم قرارپاکستان اور سری لنکا ٹیسٹ سیریز، قومی کھلاڑیوں کی اسلام آباد آمد شروعپی سی بی اور ابوظہبی ٹی 10 انتظامیہ کے درمیان این او سی کا تنازع حل
دنیا

امریکی انتخابات: ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی

ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں کامیابی حاصل کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔

امریکی انتخابات: ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی

امریکی انتخابات کے تازہ ترین نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ یہ انتخابی عمل منگل کے روز مکمل ہوا جس میں لاکھوں امریکی ووٹرز نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔

اس انتخابی نتیجے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹس کی یہ کامیابی نہ صرف روایتی حلقوں تک محدود رہی بلکہ انہوں نے ریپبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی اپنی برتری ثابت کی ہے۔

انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے جنوبی کیرولائنا، ٹیکساس اور آئیووا جیسی ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں ماضی میں ڈیموکریٹس کو اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس انتخابی لہر نے یہ ثابت کیا ہے کہ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومتی پالیسیوں سے گہرا عدم اطمینان رکھتی ہے۔ ووٹرز کا یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی حالیہ کارکردگی پر ایک سخت ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انتخابی نتائج کی وسعت اور گہرائی کا حتمی تعین کرنے کے لیے گنتی کا عمل ابھی بھی جاری ہے، تاہم ابتدائی اعداد و شمار سے یہ واضح ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کر لیا ہے۔

واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس سیاسی تبدیلی کے بعد امریکی قانون سازی کے عمل میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس اب قانون سازی کے ایجنڈے کو اپنے مطابق ترتیب دینے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔

ریپبلکن پارٹی کے لیے یہ شکست انتہائی اہم ہے کیونکہ اس نے ان کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کر دیا ہے۔ پارٹی کے اندر اب ان نتائج کے اسباب پر غور و فکر کا عمل شروع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے ان نتائج کو عوام کی طرف سے تبدیلی کا مینڈیٹ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹرز نے ملک کی موجودہ سمت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نئی قیادت اور پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان نتائج پر تاحال کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی باقی ماندہ مدت کے دوران کانگریس کے ساتھ کس طرح کے تعلقات برقرار رکھیں گے۔

آئندہ چند دنوں میں جب تمام حلقوں کے حتمی نتائج سامنے آئیں گے تو کانگریس میں نشستوں کی تقسیم کی مکمل تصویر واضح ہو جائے گی۔ اس کے بعد ہی نئی قانون سازی کے لیے حکمت عملی طے کی جائے گی۔

یہ انتخابی نتائج امریکی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس سے قبل کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کا غلبہ تھا۔ اب اقتدار کے توازن میں تبدیلی سے ملکی سیاست کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

پسِ منظر کے طور پر دیکھا جائے تو امریکی کانگریس کے یہ انتخابات صدر ٹرمپ کے دورِ صدارت کے وسط میں منعقد ہوئے ہیں، جنہیں عام طور پر موجودہ انتظامیہ کی مقبولیت کا امتحان سمجھا جاتا ہے۔

مستقبل قریب میں کانگریس کے اجلاسوں میں ڈیموکریٹس کی جانب سے مختلف پالیسیوں پر نظرثانی اور نئے قوانین متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں