وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول پر ریلیف عوام تک نہ پہنچانے والے پمپس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
یہ ہدایات انہوں نے اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جاری کی ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بعض پیٹرول پمپس کی جانب سے شہریوں کو ریلیف فراہم نہ کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
انہوں نے وزیرِ پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ ایسے تمام پمپوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں جمعے کے روز پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان موجود تھا۔
تاہم وزیرِ پیٹرولیم اور اوگرا نے ریفائنریز سے ونڈ فال منافع شیئر کرنے کا بروقت اور اہم فیصلہ کیا۔
بروقت اقدامات کی بدولت عام صارفین کو پیٹرول کی قیمت میں اس بڑے اضافے سے بچا لیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے مزید بتایا کہ ملک میں ایل پی جی مافیا کا دور اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
حکومت کی جانب سے ایل پی جی درآمد کر کے عامتہ الناس کو مزید ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
ایک اور تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک ساڑھے 7 کروڑ افراد فیول ٹوکن سے مستفید ہو چکے ہیں۔
اس مد میں قومی خزانے سے اب تک 28 ارب روپے کی رقم خرچ کی جا چکی ہے۔
اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صوبے کے لیے 160 ارب روپے کے پیکیج کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔
خیبر پختونخوا میں حکومت کی پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح سیکیورٹی اور امن و امان کا قیام ہے۔
نئی صوبائی حکومت کے تعاون سے صوبے سے دہشت گردی کا سر مکمل طور پر کچل دیا جائے گا۔
عالمی منڈی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
خطے میں جاری بے امنی کے باعث بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔
کشیدگی میں کمی کے حوالے سے حالیہ دنوں تہران میں نہایت اچھے ماحول میں بات چیت ہوئی ہے۔

اپنی رائے دیں