امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے افغان مہاجرین کو پاکستان اور افغانستان بدر کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت اس عمل کا آغاز پیر کے روز سے متوقع ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام سے ان افراد کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جو ماضی میں امریکی افواج کے ساتھ خدمات انجام دے چکے ہیں۔
میڈیا ذرائع اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈی پورٹ کی جانے والی پروازوں اور ان کی منزل کے حوالے سے حتمی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ اس سے قبل قطر کے کیمپ السیلیہ میں مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی ہے اور امریکی وزارتِ خارجہ نے ان کے انخلا کی ڈیڈلائن میں کئی بار توسیع کی تھی۔
افغان مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'افغان ایواک' نے امریکی انتظامیہ کے اس ممکنہ فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت اس عمل کو ایسے وقت میں انجام دینے کی تیاری کر رہی ہے جب امریکی مڈ ٹرم انتخابات کی وجہ سے عوام کی توجہ دوسری طرف مبذول ہے۔
تنظیم کے مطابق حکومت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ ان پروازوں میں سوار افراد کو ان کی منزل پر پہنچنے کے بعد کن حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب اس مجوزہ اقدام کے بعد مہاجرین کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کے اداروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔





اپنی رائے دیں