لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف 242 رنز کا ہدف سنسنی خیز مقابلے کے بعد عبور کر لیا۔ ایک موقع پر پاکستان کی نو وکٹیں 154 رنز پر گر چکی تھیں، تاہم شاداب خان نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔
میچ کا آغاز انگلینڈ کی بیٹنگ سے ہوا، جہاں پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ شاہین آفریدی نے ابتدائی اوورز میں ہی انگلش بیٹنگ لائن کو دباؤ میں لے لیا اور ٹام بینٹن اور جو روٹ کو جلد پویلین بھیج دیا۔
انگلینڈ کی ٹیم مشکلات کا شکار رہی اور ہیری بروک اور جارڈن کوکس بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ تاہم بین ڈکٹ نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور سیم کرن کے ساتھ مل کر 93 رنز کی اہم شراکت داری قائم کی، جس سے ٹیم کا سکور مستحکم ہوا۔
بین ڈکٹ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 111 گیندوں پر 105 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 10 چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ سیم کرن 42 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ انگلینڈ کی ٹیم مقررہ اوورز میں 242 رنز کا ہدف دینے میں کامیاب رہی۔
پاکستان کی بیٹنگ لائن کے لیے ہدف کا تعاقب آسان نہ تھا اور انگلش بولرز نے نپی تلی بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ بابر اعظم، صائم ایوب، فخر زمان اور حسن نواز سمیت اہم بلے باز جلد آؤٹ ہو گئے، جس سے پاکستان کی جیت کے امکانات معدوم ہو گئے تھے۔
قذافی سٹیڈیم میں موجود شائقین مایوس ہو کر واپس جانے لگے تھے، لیکن شاداب خان نے کریز پر ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے 96 گیندوں پر 113 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی، جس میں 13 چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے، اور انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
اننگز کے آخری لمحات میں شاداب خان کو حارث رؤف کا بھرپور ساتھ ملا۔ دونوں کھلاڑیوں نے آخری وکٹ کے لیے 89 رنز کی شراکت داری قائم کی۔ حارث رؤف نے 19 گیندوں پر 7 رنز بنائے اور 47 ویں اوور میں چوکا لگا کر پاکستان کو فتح دلائی۔
شاداب خان نے اپنی اننگز کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حارث رؤف نے کریز پر ان کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ میچ ہارنے کے قریب تھے لیکن اوس پڑنے اور کنڈیشنز بہتر ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انگلش بولرز پر دباؤ ڈالا۔
پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے شاداب خان کی اننگز کو اپنی زندگی کی بہترین اننگز قرار دیا۔ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی ایکس پر ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاداب اور حارث کی شراکت داری کو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دیا۔
انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے شکست کے باوجود اپنی ٹیم کی فیلڈنگ اور بین ڈکٹ کی سینچری کی تعریف کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اپنے اگلے میچ میں سری لنکا کو شکست دے گا تاکہ وہ فائنل کی دوڑ میں شامل رہ سکیں۔
اس میچ کے دوران سنہ 2010 میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے گئے میچ کی یادیں تازہ ہو گئیں، جس میں عبدالرزاق نے تنِ تنہا پاکستان کو فتح دلوائی تھی۔ شاداب خان کی آج کی کارکردگی کو کرکٹ حلقوں میں تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔
انگلینڈ کی جانب سے جیمی اورٹن نے تین اور لیام ڈاسن نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے بولنگ میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔ سری لنکن آل راؤنڈر اینجلو میتھیوز اور کمنٹیٹر این بشپ نے بھی شاداب کی تعریف کی۔
پاکستان کی اس فتح نے سہ فریقی سیریز کے منظرنامے کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ شائقینِ کرکٹ نے سٹیڈیم میں آخری وقت تک ٹیم کا ساتھ دیا اور اس ناقابلِ یقین واپسی کو تاریخ کا حصہ قرار دیا۔ پاکستان اب اپنے اگلے مقابلوں کے لیے پرعزم ہے۔




اپنی رائے دیں