سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک نومولود بچے کو گھنی اور سیاہ مونچھوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس غیر معمولی منظر نے انٹرنیٹ صارفین کو شدید حیرت میں مبتلا کر دیا ہے اور اس پر دلچسپ تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔
ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق ایکواڈور سے ہے، جہاں یہ بچہ پیدا ہوا۔ ویڈیو میں بچے کے اوپری ہونٹ پر نمایاں اور گھنے بال دیکھے جا سکتے ہیں جو عام نومولود بچوں کی ظاہری شکل سے بالکل مختلف اور غیر فطری معلوم ہوتے ہیں۔
اس ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے مختلف مزاحیہ انداز میں ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ صارفین نے اسے ایک 'بزرگ' بچے سے تشبیہ دی ہے، جبکہ کچھ نے اسے ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کا کمال قرار دیتے ہوئے مختلف مزاحیہ تصاویر اور میمز بھی بنائی ہیں۔
طبی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نومولود بچوں کے جسم پر 'لینوگو' نامی باریک اور نرم بال ہو سکتے ہیں جو پیدائش کے کچھ عرصے بعد خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ تاہم، یہ بال اتنے گھنے اور واضح نہیں ہوتے جیسے کہ ویڈیو میں دکھائی دے رہے ہیں۔
ایک فیکٹ چیک رپورٹ میں اس ویڈیو کے مستند ہونے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، بچے کے چہرے کی حرکات کے ساتھ مونچھوں کا انداز قدرتی نہیں لگتا، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے مصنوعی ذہانت یا کسی ڈیجیٹل ٹول کے ذریعے شامل کیا گیا ہے۔
فیکٹ چیک کرنے والے اداروں کا مزید کہنا ہے کہ ویڈیو میں مونچھوں پر پڑنے والی روشنی اور پس منظر میں موجود اسپتال کے کمرے کی روشنی میں بھی واضح فرق پایا جاتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ویڈیو اصلی نہیں ہے۔
اب تک اس واقعے کے حوالے سے کسی بھی اسپتال، ڈاکٹر یا بچے کے خاندان کی جانب سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ کسی بھی طبی ریکارڈ کی عدم موجودگی اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ یہ ویڈیو محض ایک ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
اگرچہ طبی دنیا میں 'ہائپرٹرائیکوسس' جیسی نایاب کیفیات موجود ہیں جن میں جسم پر غیر معمولی بال اگ سکتے ہیں، لیکن اس وائرل ویڈیو کا کسی بھی حقیقی طبی کیس سے کوئی ثابت شدہ تعلق تاحال سامنے نہیں آ سکا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے کے لیے اکثر ایسی ویڈیوز کو ڈیجیٹل فلٹرز یا اے آئی ٹولز کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ویڈیو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد محض تفریح فراہم کرنا ہے۔
انٹرنیٹ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ایسی ویڈیوز پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے کے بجائے ان کی حقیقت کو جانچنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر اکثر وائرل ہونے والی ایسی ویڈیوز ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سے اس پر بحث جاری ہے کہ آیا یہ کوئی نایاب طبی معجزہ ہے یا صرف ایک ڈیجیٹل دھوکہ۔ تاہم، دستیاب شواہد کی روشنی میں اسے ایک جعلی یا ایڈیٹ شدہ مواد ہی قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس طرح کی ویڈیوز اکثر وائرل ہوتی رہتی ہیں جنہیں صارفین بغیر تصدیق کے شیئر کرتے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر معلومات کی تصدیق کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
آخر میں، یہ واضح رہے کہ اس ویڈیو کے بارے میں کوئی بھی مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں اور نہ ہی اس کا کوئی طبی ثبوت موجود ہے۔ لہذا، اسے ایک تفریحی ویڈیو کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے نہ کہ کسی حقیقی طبی واقعے کے طور پر۔





اپنی رائے دیں