محکمہ اوقاف اور مذہبی امور کے اندرونی نظام کو شفاف بنانے اور مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے انتظامی سطح پر سخت فیصلے کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے تاکہ سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والے تازہ ترین احکامات میں حکومت نے بدعنوانی اور غفلت کے مرتکب سرکاری ملازمین کے خلاف زیر التوا تمام اپیلوں پر دوٹوک موقف اپناتے ہوئے انہیں خارج کر دیا ہے۔
اس تمام معاملے کے پس منظر میں صوبائی دارالحکومت کے انتظامی حکام اور متعلقہ محکموں کی جانب سے کی جانے والی جانچ پڑتال بتاتی ہے کہ سرکاری امور میں مبینہ بے ضابطگیاں کسی بھی صورت قابلِ برداشت نہیں ہیں۔ اسی پالیسی کے تحت چیف سیکرٹری پنجاب نے محکمہ اوقاف کے تین مختلف اہلکاروں کی جانب سے دائر کی جانے والی تمام محکمانہ اپیلوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
مسترد کی جانے والی ان اپیلوں کا تعلق براہ راست مالی بدعنوانی، فنڈز میں خوردبرد اور سروس کے دوران اختیارات کے غلط استعمال جیسے سنجیدہ نوعیت کے مقدمات سے ہے۔ ان مجرمانہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے نتیجے میں محکمے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا جس پر یہ محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
جن افراد کی اپیلیں مسترد کی گئی ہیں ان میں محکمہ اوقاف کے سابق مینیجر اوکاڑہ شفقت عباس اور جونیئر کلرک زوار حسین کے نام نمایاں طور پر شامل ہیں۔ ان دونوں افراد پر اپنے دورِ ملازمت میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔
انکوائری کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ اوکاڑہ اوقاف سرکل میں کروڑوں روپے کی بھاری رقم کی مالی بے ضابطگیوں کا بڑا سکینڈل رونما ہوا تھا۔ ذرائع اور رپورٹس کے مطابق اس مخصوص سرکل میں چھ کروڑ دو لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیاں کی گئی تھیں جو کہ ایک بہت بڑا مالیاتی گھپلہ ہے۔
اوکاڑہ سرکل کے علاوہ یہ بدعنوانی کا دائرہ کار دیگر تاریخی مقامات تک بھی پھیلا ہوا تھا جہاں سے سرکاری خزانے کو مسلسل نقصان پہنچایا جا رہا تھا۔ چنانچہ دربار بابا بلھے شاہ قصور میں ہونے والی نقد عطیات اور روزانہ کی بنیاد پر آنے والی آمدن کی وصولی کے دوران بھی شدید بے ضابطگیاں پائی گئیں۔
دربار بابا بلھے شاہ قصور کے معاملات میں زائرین کی طرف سے دیے جانے والے نقد عطیات کو باقاعدہ سرکاری کھاتوں میں جمع کرانے کے بجائے خوردبرد کرنے کے شواہد ملے تھے۔ ان تمام مالیاتی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے بعد متعلقہ حکام نے انکشاف کیا کہ محکمے کی آمدن کو چھپانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔
مذکورہ بالا تمام الزامات کے ثابت ہونے پر مجرموں کے خلاف محکمانہ قوانین کے تحت سخت ترین سزاؤں کا فیصلہ سنایا گیا تھا جسے اب حتمی طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ ان سزاؤں کے نفاذ سے کرپٹ عناصر کی صفوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور انتظامیہ کا پختہ عزم ظاہر ہوتا ہے۔
سابق مینیجر اوکاڑہ شفقت عباس اور جونیئر کلرک زوار حسین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی سابقہ سروس کے پانچ پانچ سال ضبط کرنے کی سزا کو بھی بحال رکھا گیا ہے۔ سروس کے سال ضبط کرنے کی یہ سزا سرکاری ملازمین کے لیے ایک انتہائی کڑی اور عبرت ناک سزا مانی جاتی ہے۔
محکمہ اوقاف کے جاری کردہ وضاحتی احکامات کے مطابق، ان تینوں مجرم اہلکاروں سے مجموعی طور پر پچیس لاکھ تیئیس ہزار سات سو پینتیس روپے کی کُل رقم بطور ریکوری وصول کرنے کی سزائیں بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔ یہ رقم وہ ہے جو مبینہ طور پر غبن کی گئی تھی اور اب اسے سرکاری خزانے میں واپس جمع کرایا جائے گا۔
محکمہ اوقاف کے ذمہ داران کا اس پورے واقعے پر کہنا ہے کہ سرکاری آمدن کے تحفظ میں کسی بھی قسم کی غفلت، کوتاہی یا لاپرواہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ادارے کے اندر احتساب کا یہ بے رحم اور شفاف عمل آئندہ بھی بلاتعطل جاری رہے گا تاکہ کسی کو ایسی جرات نہ ہو۔
حکام کا اس عزم کا بھی اظہار کرنا ہے کہ تمام سرکاری املاک، اوقاف کے تحت چلنے والے فنڈز، مذہبی مقامات کی آمدن اور دیگر عوامی وسائل کا تحفظ محکمے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان وسائل کی حفاظت کے لیے تمام قانونی اور انتظامی راستے پوری سختی کے ساتھ اپنائے جائیں گے۔
اس طرح کے تادیبی اقدامات کا بنیادی مقصد سرکاری محکموں میں بدعنوانی کے رجحان کا مکمل خاتمہ کرنا اور کرپٹ عناصر کے حوصلے پست کرنا ہے۔ اس سے نہ صرف محکمے کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ عوام کا سرکاری اداروں کے نظام اور ان کی شفافیت پر اعتماد بھی بحال رہے گا۔





اپنی رائے دیں