مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 1:17
بریکنگ
ڈیرہ اسماعیل خان: کواڈ کاپٹر گرنے سے بچہ جاں بحق، ماں اور بھائی زخمیپاکستان کے سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے افغان حکومت گمراہ کن الزامات لگا رہی ہے، وزارت اطلاعاتکراچی ایئرپورٹ پر عمرہ زائرین کی ویکسینیشن معطل، کاؤنٹر ہٹا دیا گیاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت کی پیشکش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارامریکی اور اسرائیلی انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا خدشہروس اور یوکرین کا الیوشکی میں انسانی امداد کیلئے عارضی جنگ بندی پر اتفاقاینڈرائیڈ فونز میں 2027 کی اپ ڈیٹ تاریخ: صارفین پریشان نہ ہوںستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا؟مصطفیٰ کمال کی ایم کیو ایم کارکنان کو ہر طرح سے تیار رہنے کی ہدایتمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: خلیجی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور آئی ایم ایف کے خدشاتفرانس میں مہنگائی اور تعلیمی اصلاحات کیخلاف مظاہرے، 70 ہزار اہلکار تعیناتحکومت کا عمومی سبسڈی ختم کر کے ہدفی سبسڈی دینے کا فیصلہ: وزیر خزانہپنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی وجوہات سامنے آ گئیںپی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا میں تنظیمی امور کیلئے متبادل انتظام کا فیصلہپاکستان میں فلو ویکسین کی قلت، وفاقی وزیر نے ڈریپ کو قیمتوں پر نظرثانی کا حکم دے دیالاہور جنرل ہسپتال: فرائض میں غفلت برتنے والے دو ملازمین کے خلاف کارروائیعراقی سوشل میڈیا انفلوئنسر کی بغداد کے انفراسٹرکچر پر تنقیدامریکہ میں مصنوعی منشیات کا بحران، فینٹانائل کے ساتھ خطرناک کیمیکلز کا استعمالمیرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کا حصول اب انتہائی آسان، طریقہ کار جاریمسلم ممالک کے مابین اتحاد اور دفاعی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے: ماہرین
کاروبار

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: خلیجی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور آئی ایم ایف کے خدشات

خطے میں جاری تنازعات کے باعث توانائی کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیاں متاثر، آئی ایم ایف نے خلیجی ممالک کی معاشی نمو میں کمی کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: خلیجی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور آئی ایم ایف کے خدشات

مشرق وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین جاری کشیدگی نے خطے کی معاشی صورتحال کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس تنازع کے نتیجے میں خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ میں سے پانچ ممالک کی معیشتیں سکڑاؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل اور گیس کی برآمدات میں کمی اور بحری نقل و حمل میں حائل رکاوٹیں اس معاشی دباؤ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ سلامتی کے خدشات کے باعث نہ صرف توانائی کا شعبہ بلکہ سیاحت اور فضائی سفر جیسے اہم ذرائع آمدن بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

آئی ایم ایف کے تخمینوں کے مطابق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کی معاشی شرح نمو میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ ان ممالک کے برعکس، عمان واحد ملک ہے جس کی معیشت کے مثبت سمت میں رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، کیونکہ اس کی بندرگاہیں آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہیں۔

سعودی عرب اپنی وژن 2030 کی پالیسیوں اور متنوع معاشی ڈھانچے کے باعث نسبتاً بہتر پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے۔ ملک کی مشرق-مغرب پائپ لائن اسے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے اس کی برآمدات کے لیے متبادل راستے میسر ہیں۔

دوسری جانب قطر، کویت اور بحرین جیسے ممالک توانائی کی برآمدات اور اشیائے ضروریہ کی درآمد کے لیے آبنائے ہرمز پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس انحصار کے باعث ان ممالک کو موجودہ بحران کے دوران زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انہیں متبادل راستوں کی تلاش میں دشواری ہے۔

آکسفورڈ اکنامکس کے ماہرین کے مطابق، سعودی عرب کی بڑی مقامی منڈی اور نوجوان آبادی اسے معاشی جھٹکے سہنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، ملک کا وسیع جغرافیہ بھی حملوں کے اثرات کو محدود رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، جس سے روزمرہ کی سرگرمیاں جزوی طور پر برقرار رہتی ہیں۔

تاہم، حوثی گروپ کی جانب سے توانائی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور آرامکو کے انتظامی کمپلیکس پر ہونے والے حملوں نے معاشی اور سلامتی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

توانائی کے شعبے کے علاوہ، ہوا بازی کی صنعت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز کو 2026 میں اربوں ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ پروازوں کے راستے تبدیل کرنے اور مسافروں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسافروں کی تعداد میں نمایاں کمی اس بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ سیاحت اور تفریحی شعبے پر انحصار کرنے والے ممالک کو زیادہ نقصان پہنچا ہے، جبکہ سعودی عرب میں مذہبی سیاحت کے باعث اثرات کسی حد تک محدود رہے ہیں۔

خلیجی سٹاک مارکیٹوں پر بھی جنگ کے اثرات واضح ہیں۔ رئیل اسٹیٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں کے انڈیکسز میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ اگرچہ کچھ مارکیٹوں نے بحالی کی کوشش کی ہے، لیکن سرمایہ کاروں کا اعتماد اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف توانائی تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ صورتحال کاروباری لاگت میں اضافے اور مجموعی معاشی نمو میں سست روی کا باعث بن سکتی ہے، جس سے خطے کے تمام ممالک متاثر ہوں گے۔

تاریخی طور پر خلیجی معیشتوں نے ماضی میں بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی بحرانوں کا سامنا کیا ہے۔ تاہم، موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اور جنگی حالات نے ان ممالک کے لیے نئے اور پیچیدہ چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں جن سے نمٹنا ایک بڑی آزمائش ہے۔

حکومتیں اب اپنی معاشی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کر رہی ہیں تاکہ ان بحرانوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ توانائی کے متبادل راستوں کی تلاش اور غیر تیل شعبوں پر توجہ مرکوز کرنا ان ممالک کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے معاشی نقصان سے بچا جا سکے۔

کاروبار کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں