نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے لاہور کے علاقے شالیمار ٹاؤن میں ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے کم عمر بچوں کو بلیک میل کرنے میں ملوث پچیس سالہ ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
اس کارروائی کی نگرانی انسپکٹر عاقب علی خان نے کی جبکہ یہ سارا اقدام ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے لاہور زون عاطف امیر کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں عمل میں لایا گیا۔
حکام کے مطابق گرفتار کیے جانے والے ملزم کی شناخت حمیر کے نام سے ہوئی ہے جسے پاکستان منٹ کے قریب واقع علاقے سے دبوچا گیا اور اس کے قبضے سے دو قیمتی موبائل فونز بھی قبضے میں لیے گئے۔
ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم کے زیر استعمال آئی فون بارہ اور آئی فون تیرہ پرو برآمد کیے گئے ہیں جن میں ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں۔
ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران معلوم ہوا ہے کہ ملزم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً اسنیپ چیٹ کے ذریعے معصوم اور کم عمر بچوں کے ساتھ رابطے استوار کرتا تھا۔
ملزم بچوں سے ان کی نجی تصاویر اور قابل اعتراض ویڈیوز حاصل کرتا تھا اور بعد میں انہی مواد کی بنیاد پر انہیں شدید قسم کی بلیک میلنگ کا نشانہ بناتا تھا۔
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق ملزم متاثرہ بچوں کو دھمکیاں دیتا تھا کہ اگر ان کی طرف سے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ یہ نجی اور حساس مواد فحش ویب سائٹس پر فروخت کر دے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے فعل کا مقصد بچوں اور ان کے خاندانوں کو دباؤ میں لا کر غیر قانونی طور پر مالی فوائد حاصل کرنا تھا جو انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔
ملزم کے موبائل فونز کی فرانزک اور تکنیکی جانچ کے دوران ٹک ٹاک پر ہونے والی گفتگو کے ایسے شواہد ہاتھ لگے ہیں جو اس مکروہ دھندے کی مکمل تصدیق کرتے ہیں۔
ٹک ٹاک چیٹس میں واضح طور پر بلیک میلنگ اور قابل اعتراض ڈیجیٹل مواد کے ذریعے پیسے بٹورنے کی کوششوں کے شواہد موجود ہیں جن کی مزید جانچ کی جا رہی ہے۔
تفتیشی عمل کے دوران ٹیم کو متعدد ای میل اکاؤنٹس اور پاس ورڈ مینیجر میں محفوظ اسنیپ چیٹ اکاؤنٹس کی لاگ ان تفصیلات بھی حاصل ہوئی ہیں جن کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کا بتانا ہے کہ گیارہ اکتوبر کو اسنیپ چیٹ کی جانب سے موصول ہونے والی ایک ای میل میں اکاؤنٹ دوبارہ فعال کرنے کے لیے پانچ دن کی مہلت دی گئی تھی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے برآمد شدہ ڈیجیٹل آلات، پیغامات اور دیگر شواہد کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے تاکہ اس جرم میں متاثر ہونے والے بچوں کی درست تعداد کا تعین کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ یہ بھی کھوج لگائی جا رہی ہے کہ آیا اس گھناؤنے نیٹ ورک میں اس ملزم کے علاوہ کوئی اور عناصر بھی ملوث ہیں یا یہ اکیلا ہی یہ سب کچھ کر رہا تھا۔
این سی سی آئی اے حکام کا اس حوالے سے دوٹوک موقف ہے کہ بچوں کو آن لائن ہراساں کرنے، بلیک میل کرنے اور ان کا استحصال کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے واضح کیا ہے کہ سائبر اسپیس میں بچوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن بھرپور طریقے سے جاری رہے گا اور قانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی۔
ملزم کے خلاف انسپکٹر عاقب علی خان کی مدعیت میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ یعنی پیکا اور پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ تعزیراتی دفعات کے تحت باضابطہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ابتدائی کارروائی کے بعد ملزم سے مزید تفتیش کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اس کے نیٹ ورک سے جڑے تمام تاروں کو تلاش کر کے مزید اہم انکشافات کیے جا سکیں اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔





اپنی رائے دیں