لاہور میں پولیس نے اپنے ہی تین اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرتے ہوئے انہیں عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ٹک ٹاکر سامیہ مبارک کو مبینہ طور پر پروٹوکول دینے اور رشوت کے عوض چھوڑنے کے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کے مطابق معطل ہونے والوں میں ایس ایچ او ڈیفنس بی، تھانے کا محرر اور ایک لیڈی کانسٹیبل شامل ہیں۔ ان اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قواعد کی خلاف ورزی کی۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب سامیہ مبارک کو ایک بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی میں سفر کرتے ہوئے روکا گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے ضابطے کی کارروائی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ملزمہ کو پروٹوکول فراہم کیا اور رشوت لے کر چھوڑ دیا۔
اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام نے فوری نوٹس لیا اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے واضح کیا کہ کسی بھی اہلکار کو قانون ہاتھ میں لینے یا بدعنوانی میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تحقیقات کو غیر جانبدارانہ اور شفاف بنانے کے لیے تینوں اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر کلیدی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے کی مکمل انکوائری اب ایس ایس پی آپریشنز کی نگرانی میں کی جا رہی ہے۔
سامیہ مبارک معروف ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کی بہن ہیں، جس کی وجہ سے یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف مزید محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ کسی بھی قسم کی غفلت یا رشوت ستانی میں ملوث پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف سخت ترین تادیبی اقدامات کیے جائیں گے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ایس ایس پی آپریشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام شواہد کا بغور جائزہ لیں اور حقائق کو سامنے لائیں۔ تحقیقاتی ٹیم اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا اہلکاروں نے واقعی پیسے لے کر ملزمہ کو رہا کیا تھا۔
اس واقعے کے بعد پولیس کے اندرونی احتساب کے عمل کو مزید تیز کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے بھی پولیس کے اس اقدام کو سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جو قانون کا مذاق اڑاتے ہیں۔
ٹک ٹاکرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے حوالے سے پولیس کا رویہ اکثر تنقید کی زد میں رہتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا بااثر افراد یا سوشل میڈیا شخصیات کو قانون سے استثنیٰ حاصل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی بغیر نمبر پلیٹ گاڑی چلانے یا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پولیس اہلکاروں کا فرض ہے کہ وہ قانون کا نفاذ بلا امتیاز کریں۔
مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کی جانب سے گشت اور چیکنگ کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ افسران نے فیلڈ میں تعینات عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ایمانداری کا مظاہرہ کریں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ ایس ایس پی آپریشنز کی جانب سے مکمل تحقیقاتی رپورٹ جلد ہی اعلیٰ حکام کو پیش کر دی جائے گی۔ اس رپورٹ کی روشنی میں ہی معطل ہونے والے اہلکاروں کی ملازمت کے مستقبل کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔





اپنی رائے دیں