مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:56
بریکنگ
دہشت گردی قومی مسئلہ ہے، سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر تعاون کیا جائے: وفاقی وزراءکراچی میں آن لائن فحش مواد کی تیاری اور فراڈ میں ملوث 3 کمپنیاں بے نقابپاک بھارت جنگ رکوانا میرے لیے اعزاز ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰایران کا کسی بھی جارحیت کی صورت میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا انتباہاردن کے علاقے کرک میں چرچ پر حملہ، جنازے کے دوران فائرنگ سے 7 افراد جاں بحقلاہور: مزنگ میں طالبہ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار، مقدمہ درجماسکو: ڈرون حملوں کے خطرے کے باعث فضائی آپریشن متاثر، پابندیاں ختمحکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل مہنگا کر دیاملتان: شوہر اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے زیادتی کا واقعہکراچی میں جائیدادوں پر قبضے اور جعلی وکلاء کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناککراچی: مائی کلاچی روڈ پر ٹرالر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار مرد و خاتون جاں بحقبنگلہ دیشی اسپنر الِس الاسلام کا باؤلنگ ایکشن ایک بار پھر مشکوک قراربھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوتزمینی حملے کی صورت میں دشمن کا قبرستان بن جائیں گے: پاسداران انقلابروس اور یوکرین کے درمیان 540 جنگی قیدیوں کا تبادلہمغربی ممالک میں مظاہرین احتساب کے مطالبے پر قائم رہیں: باقر قالیبافمشرقِ وسطیٰ میں نئی سکیورٹی ساخت: ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کا مکہ اتحادبرفانی چیتے کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: عطا تارڑآر فور ممالک کا اجلاس، سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہدانتوں کی صحت: صرف برش کرنا کافی نہیں، متوازن غذا کا انتخاب بھی ناگزیر
دنیا

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت

بھگونت سنگھ مان نے تصدیق کی ہے کہ انہیں 27 نومبر کو لاہور میں ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں پاکستان کے شہر لاہور میں منعقد ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کے لیے باضابطہ دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ یہ کانفرنس رواں سال 27 نومبر کو لاہور میں منعقد کی جا رہی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ نے بھارتی پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس دعوت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ منتظمین کی جانب سے انہیں نہ صرف شرکت کی دعوت دی گئی ہے بلکہ ان کی میزبانی کرنے کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔

بھگونت مان نے اپنے مخصوص انداز میں اس دعوت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی لاہور جانا چاہتے ہیں کیونکہ دونوں اطراف کا ثقافتی ورثہ ایک جیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے شاعر اور دیگر اہم شخصیات لاہور کا سفر کریں گی اور میری بھی خواہش ہے کہ اس کانفرنس کا حصہ بنوں۔

تاہم وزیراعلیٰ نے اس موقع پر طنزیہ انداز میں بھارتی مرکزی حکومت کی جانب سے بیرونِ ملک دوروں پر عائد پابندیوں اور اجازت ناموں کے حصول میں درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت انہیں فرانس اور جاپان جیسے ممالک جانے کی اجازت نہیں دیتی تو پاکستان جانے کی اجازت ملنا ایک بڑا سوال ہے۔

اسمبلی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بھارتی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے بھی اس موضوع پر دلچسپی ظاہر کی اور وزیراعلیٰ سے کہا کہ اگر انہیں دورے کی اجازت مل جائے تو انہیں بھی ساتھ لے کر جائیں۔

اس پر بھگونت مان نے جواب دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام اراکین مل کر کرتار پور کا دورہ کریں۔ واضح رہے کہ کرتار پور راہداری دونوں ممالک کے درمیان سکھ برادری کے لیے ایک اہم مذہبی مقام ہے جو امن اور خیرسگالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

عالمی پنجابی کانفرنس کا انعقاد پنجابی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس طرح کی تقریبات دونوں خطوں کے عوام کے درمیان ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

لاہور میں ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت کو عوامی حلقوں میں مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ پنجابی زبان کے ادیبوں اور دانشوروں کی بڑی تعداد اس کانفرنس میں شرکت کی منتظر ہے تاکہ مشترکہ ثقافتی اقدار کو اجاگر کیا جا سکے۔

بھگونت سنگھ مان کے اس بیان کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ بھارتی حکومت اس دعوت کے حوالے سے کیا موقف اختیار کرتی ہے۔ سفارتی اور سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو دونوں جانب کے عوام کے مابین عوامی سطح پر رابطوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ثقافتی تبادلے ہمیشہ سے ہی عوامی سطح پر مقبول رہے ہیں۔ لاہور اور امرتسر جیسے شہروں کے درمیان تاریخی اور ثقافتی مماثلتیں دونوں خطوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا باعث بنتی ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی وفود کے دورے ہوتے رہے ہیں جو امن کی بحالی اور باہمی افہام و تفہیم کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پنجابی زبان کا ادب اور شاعری دونوں اطراف یکساں مقبول ہیں۔

کانفرنس کے منتظمین کی جانب سے اس دعوت کو ایک خیر سگالی کا پیغام قرار دیا گیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں گے۔

فی الحال وزیراعلیٰ کی جانب سے اس دعوت پر حتمی فیصلہ بھارتی حکومت کی اجازت سے مشروط ہے۔ اس معاملے پر مزید پیش رفت کا انحصار سفارتی اجازت ناموں اور حکومتی پالیسیوں پر ہوگا جو آنے والے دنوں میں واضح ہو سکیں گی۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں