مواد پر جائیں
بدھ، 28 اکتوبر 2026 17 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 12:36
تازہ
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ‘ون پیشنٹ ون آئی ڈی’ ڈیجیٹل نظام کا نفاذتحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، اہم قرارداد منظورپاکستان تحریک انصاف کا 28 ویں آئینی ترمیم کی مشروط حمایت کا فیصلہدبئی میں گاڑی کی منفرد نمبر پلیٹ CC44 67 لاکھ 20 ہزار درہم میں نیلاممشہور بھارتی ہدایت کار اور ‘سی آئی ڈی’ کے خالق بی پی سنگھ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئےخیبر پختونخوا کی روایات میں گالم گلوچ کی کوئی گنجائش نہیں: شیر افضل مروتنو مئی کیس: انسداد دہشتگردی عدالت نے حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیااولاد نہ ہونے پر خاندان نے کبھی دباؤ نہیں ڈالا، جواد احمدعمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل، گرفتار افسران معطل اور نیا تقررپاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 1680 ارب روپے رہ گیا: اویس لغاریانسٹاگرام کا یوٹیوب کو ٹکر دینے کیلئے 90 منٹ طویل ویڈیوز کا فیچر متعارفکوئی مجرم اپنی جماعت کا بھی ہو تو رعایت نہیں ملے گی: مریم نوازبجلی صارفین کیلئے خوشخبری، 200 سے زائد یونٹس پر اضافی چارجز ختم کرنے پر کام جاریظالم کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچے گا: مریم نوازکراچی میں موچکو پولیس کی کارروائی، بین الصوبائی منشیات نیٹ ورک گرفتاروالد کے خلاف سنگین الزامات پر میگھن مارکل آبدیدہ ہوگئیںسی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، انفارمیشن کوریڈور عوام کو قریب لائے گا: عطا تارڑکمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس، خود حکمرانی پر زورکشمیری آج یومِ سیاہ منا رہے ہیں، بھارتی تسلط کے 79 سال مکملراولپنڈی میں خاتون پر مبینہ تشدد، شوہر اور ساس سسر گرفتار
پاکستان

پنجاب حکومت کا آبی ذخائر کو آلودگی سے محفوظ بنانے کیلئے جدید مانیٹرنگ کا آغاز

صوبے بھر کے دریاؤں اور نہروں کے پانی کے معیار کی جانچ کیلئے 15 خودکار اسٹیشنز قائم کر دیے گئے ہیں۔

پنجاب حکومت کا آبی ذخائر کو آلودگی سے محفوظ بنانے کیلئے جدید مانیٹرنگ کا آغاز

پنجاب حکومت نے صوبے کے آبی ذخائر کو آلودگی سے بچانے اور پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دریاؤں، نہروں اور قدرتی آبی ذخائر میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی روک تھام اور سائنسی بنیادوں پر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔

محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے تحت صوبے کے مختلف دریاؤں اور بیراجوں پر 15 خودکار مانیٹرنگ اسٹیشنز نصب کیے گئے ہیں۔ یہ جدید اسٹیشنز ہر گھنٹے بعد پانی کے 14 مختلف معیارات کا تجزیہ کر رہے ہیں، جس سے پانی کے معیار میں ہونے والی تبدیلیوں کا فوری پتہ چلایا جا سکتا ہے۔

ماحولیاتی مانیٹرنگ سینٹر کے انچارج نور احمد نے اس حوالے سے بتایا کہ جس طرح فضا کے معیار کو جانچنے کے لیے ایئر کوالٹی انڈیکس جاری کیا جاتا ہے، اسی طرح اب پانی کے معیار سے متعلق بھی باقاعدگی سے انڈیکس جاری کیا جائے گا۔

اس نئے نظام کے ذریعے دریاؤں میں آلودگی کی سطح اور اس کے اسباب کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے آبی آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی اور مستقبل کی پالیسی سازی میں بہتری آئے گی۔

مانیٹرنگ اسٹیشنز دریائے راوی پر راوی سائفن اور ہڈیارہ ڈرین کے سنگم، دریائے چناب پر ہیڈ مرالہ، خانکی اور ہیڈ تریموں جبکہ دریائے سندھ پر کالا باغ سمیت اہم مقامات پر قائم کیے گئے ہیں۔ ان مقامات سے حاصل کردہ ڈیٹا کو پالیسی سازی میں استعمال کیا جائے گا۔

ہڈیارہ ڈرین میں آلودگی کے ذرائع کا تعین کرنے کے لیے ایک خصوصی سائنسی تحقیق بھی جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈرین کے 56 مختلف مقامات سے پانی کے نمونے لیے گئے ہیں تاکہ صنعتی فضلے اور شہری سیوریج کے اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

تحقیق کے دوران چاروں موسموں میں نمونوں کا تجزیہ کیا جائے گا تاکہ یہ تعین ہو سکے کہ آلودگی میں مقامی صنعتوں، شہری اخراج اور سرحد پار سے آنے والے پانی کا کتنا حصہ شامل ہے۔ اس سے آلودگی کے تدارک کیلئے ٹھوس حکمت عملی تیار کی جائے گی۔

ابتدائی مشاہدات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاہور کے قریب ڈرین کے زیریں حصے میں آلودگی کی سطح زیادہ ہے۔ دریائے راوی میں نارووال اور ظفروال کے مقامات پر پانی نسبتاً صاف رہتا ہے، تاہم لاہور میں داخل ہونے کے بعد صورتحال تبدیل ہو جاتی ہے۔

شہر کے تقریباً 10 سے 11 مقامات سے غیر ٹریٹ شدہ شہری سیوریج اور صنعتی فضلہ براہ راست دریا میں شامل ہونے سے پانی کا معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے سیوریج کو دریا میں گرانے سے قبل صاف کرنا لازمی ہے۔

پنجاب حکومت نے ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی صنعتوں کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی واٹر اسکواڈز بھی متحرک کر دیے ہیں۔ یہ اسکواڈز صنعتی فضلے کے اخراج کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور آلودگی پھیلانے والے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

لاہور میں گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے آٹھ سے نو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ ان میں سے کچھ منصوبوں پر عملی کام کا آغاز ہو چکا ہے جو مستقبل میں دریاؤں کو آلودگی سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دریاؤں کو آلودگی سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی بروقت تکمیل اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔ حکومت اس ضمن میں تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

یہ منصوبہ پنجاب کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نہ صرف زرعی پانی کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ حکومتی سطح پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ آبی آلودگی کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں