پاکستان کے ابھرتے ہوئے اسکواش کھلاڑی نور زمان نے کیلیفورنیا میں جاری پی ایس اے گولڈ سلیکون ویلی اوپن اسکواش چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایونٹ کے کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔
ریڈووڈ سٹی میں کھیلے گئے کوارٹر فائنل مقابلے میں 22 سالہ نور زمان نے عالمی نمبر ۴ اور ٹورنامنٹ کے دفاعی چیمپئن مصر کے کریم عبدالجواد کو سخت مقابلے کے بعد 1‑3 سے شکست دے کر بڑا اپ سیٹ کر دیا۔
اس میچ کا دورانیہ 52 منٹ رہا جس میں پاکستانی کھلاڑی نے انتہائی مہارت اور پھرتی کا مظاہرہ کیا۔ نور زمان نے 9‑11، 7‑11، 11‑9 اور 6‑11 کے اسکور کے ساتھ کامیابی سمیٹی اور اگلے مرحلے میں اپنی جگہ پکی کی۔
میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نور زمان نے کہا کہ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل طور پر تیار تھے اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ عالمی سطح کے ٹاپ کھلاڑیوں کو شکست دے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے نور زمان، سابق عالمی چیمپئن قمر زمان کے پوتے اور 2025 کے انڈر‑۲۳ عالمی چیمپئن ہیں۔
نور زمان نے گزشتہ چند مہینوں کے دوران عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ پی ایس اے ٹائٹلز اپنے نام کیے ہیں۔ ان مسلسل کامیابیوں کی بدولت وہ عالمی درجہ بندی میں ٹاپ ۳۰ کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب اسی ایونٹ میں شریک پاکستان کے ایک اور کھلاڑی محمد اشعب عرفان کو کوارٹر فائنل مرحلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں مصر کے محمد الشوربگی نے 0‑3 سے ہرا کر ایونٹ سے باہر کر دیا۔
سلیکون ویلی اوپن اسکواش چیمپئن شپ کی مجموعی انعامی رقم ایک لاکھ 43 ہزار 500 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں دنیا بھر سے بہترین کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں اور نور زمان کی کامیابی کو اسکواش حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔
نور زمان کی اس جیت نے ایک بار پھر پاکستانی اسکواش کے روشن مستقبل کی امیدیں جگا دی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر انہیں اسی طرح کے بین الاقوامی مواقع ملتے رہیں تو وہ عالمی رینکنگ میں مزید بہتری لا سکتے ہیں۔
قومی سطح پر نور زمان کی اس کامیابی پر اسکواش کے شائقین خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی انہیں مبارکباد دینے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے اور ان کی اگلی کارکردگی پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کا اسکواش کی دنیا میں ایک سنہری ماضی رہا ہے اور نور زمان جیسے نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی اس کھیل کو دوبارہ عروج پر لے جانے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
کوارٹر فائنل میں نور زمان کا مقابلہ اب کس کھلاڑی سے ہوگا، اس کا فیصلہ جلد متوقع ہے۔ شائقین اسکواش کو امید ہے کہ وہ اگلے مرحلے میں بھی اپنی عمدہ فارم کو برقرار رکھیں گے اور ملک کا نام روشن کریں گے۔
اس ایونٹ کے دوران نور زمان کی تکنیک اور کورٹ پر ان کی نقل و حرکت نے مبصرین کو متاثر کیا ہے۔ ان کی دفاعی اور جارحانہ حکمت عملی کا امتزاج انہیں ایک مشکل حریف بناتا جا رہا ہے۔




اپنی رائے دیں