لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ احتجاجی تحریک کے حوالے سے بنائی گئی حکمت عملی کی ناکامی کی پوری پارٹی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ پارٹی کو ابتدا ہی سے معلوم تھا کہ لائحہ عمل میں خامیاں موجود ہیں۔
شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پہلے ہی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا اور باقاعدہ خط لکھ کر صورتحال سے آگاہ بھی کیا گیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ اجتماعی فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری بھی سب پر ہی عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں پارٹی حکومت کے خاتمے سے نہ صرف جماعت کو بلکہ زمینی سطح پر کارکنوں کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس وقت بھی صوبے میں کارکنوں کی گرفتاریاں اور چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران انہوں نے سلمان اکرم راجہ کے ایک بیان اور اس پر علی امین گنڈاپور کے ردعمل کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنماؤں کے درمیان بعض امور پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔
نیا واٹس ایپ گروپ بنانے کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اراکین کا مؤقف تھا کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر لوگوں کو بکھرنے سے بچانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا تھا۔ اس گروپ میں سہیل آفریدی سمیت علی امین گنڈاپور کی کابینہ کے ارکان بھی شامل ہیں۔
شوکت یوسفزئی نے اس تاثر کو رد کیا کہ اس گروپ کا مقصد وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنا تھا بلکہ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ پارٹی کو بچایا جائے اور ضرورت پڑنے پر قیادت کو مفید تجاویز فراہم کی جائیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر معلوم نہیں کن وجوہات کی بنا پر اس حکمت عملی کو موثر انداز میں آگے نہیں بڑھایا جا سکا۔ انہوں نے سوال کیا کہ پارٹی کس پالیسی یا آپریشن میں رکاوٹ بن رہی تھی۔
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پولیس کے محکمے کو سب سے زیادہ بجٹ فراہم کیا جا رہا ہے۔ امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دراندازی کو روکنا وزارت داخلہ اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ صوبائی حکومت پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے وسائل فراہم کر رہی ہے تاکہ صوبے کے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
موجودہ سیاسی چیلنجز کے تناظر میں انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پارٹی کو اندرونی انتشار سے نکالنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام رہنماؤں کو ذاتی اختلافات پس پشت ڈال کر تنظیم کی بہتری کے لیے سوچنا ہوگا۔
کارکنوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ کارکن تحریک کا اصل سرمایہ ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے قیادت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومت جانے کے بعد کارکنوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے، ان کا احساس پوری قیادت کو ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی کے اندرونی معاملات کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کے غلط فہمیوں کی گنجائش نہ رہے اور تحریک کو ایک بار پھر منظم کیا جا سکے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تمام رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ہوگا تاکہ پارٹی کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ مؤثر طریقے سے کیا جا سکے۔
پروگرام کے اختتام پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پارٹی قیادت ان تمام امور پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور آئندہ کے لیے بہتر اور متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جائے گا تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔





اپنی رائے دیں