مواد پر جائیں
جمعرات، 5 نومبر 2026 25 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
آٹزم کے شکار افراد میں پارکنسنز کے مرض کا خطرہ دو گنا زیادہ ہونے کا انکشافوی رات کوہلی کی شاندار بیٹنگ، بھارت نے نیوزی لینڈ کو پہلے ون ڈے میں شکست دے دییو ایف سی کے سربراہ ڈانا وائٹ کا اسلام مخاچیف کو فائٹس بڑھانے کا مشورہلندن: عوامی مقامات اور ٹرانسپورٹ پر فیشل ریکگنیشن کیمروں کا منصوبہ تیاربھارت: چاکلیٹ کے تنازع پر 12 سالہ لڑکی نے 4 سالہ بچے کو قتل کر دیاپاکستان 23 ویں ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کے سیمی فائنل میں پہنچ گیاامریکی وسط مدتی انتخابات: فلوریڈا اور جارجیا میں تاریخی نتائج سامنے آ گئےعالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی، بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا امکانکامو کا یوئیفا چیمپئنز لیگ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ، لینس کو ایک کے مقابلے میں نو گول سے شکستون کنسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشافایران جنگ امریکی انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ بنی، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعتراف190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں 10 نومبر کو سماعت کے لیے مقررامریکی مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست، پارٹی اندر شدید ردعملامریکہ: نائب صدر جے ڈی وینس نے مڈٹرم انتخابات میں شکست کی وجہ ایران جنگ کو قرار دے دیاسمیر منہاس کی قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شمولیت، عظیم گھمن کی حمایتیوکرین کے امدادی مرکز پر روسی حملہ، ہلاکتوں کی تعداد 40 ہو گئیہوسٹن ایسٹروز کا مینیجر کے عہدے کیلئے البرٹ پوجولس اور مورگن اینزبرگ سے انٹرویوز کا فیصلہپی ٹی آئی کا عمران خان کو فوری شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہپاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم اے سی سی ایشیا کپ میں مہم کا آغاز کل کرے گیبرطانیہ میں فلسطین ایکشن پر پابندی سپریم کورٹ میں چیلنج، درجنوں گرفتار
جرم و سزا

حکومت پنجاب کا ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کا فیصلہ

ناجائز اسلحہ جمع کرانے کے لیے پندرہ روز کی مہلت دینے اور خلاف ورزی پر عمر قید کی سزا کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرنے اور قانون کو انتہائی سخت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ اداروں نے ایک جامع آرڈیننس تیار کر لیا ہے جس کا مقصد معاشرے میں اسلحے کی نمائش اور غیر قانونی موجودگی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔

تیار کردہ آرڈیننس کے تحت عام شہریوں کو اپنا غیر قانونی اسلحہ رضاکارانہ طور پر متعلقہ اداروں کے پاس جمع کرانے کے لیے پندرہ دن کا وقت دیا جائے گا۔ اس مقررہ مدت کے اندر اندر ہتھیار جمع کرانے والے افراد کو قانون کے کٹہرے سے بچنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

جو افراد پندرہ روز کی دی گئی مہلت کے اندر اپنا ناجائز اسلحہ حکام کے حوالے نہیں کریں گے، ان کے خلاف انتہائی سخت قانونی اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔ مقررہ مدت گزرنے کے بعد اسلحہ برآمد ہونے کی صورت میں ملزمان کو عمر قید جیسی سخت ترین سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سزاؤں کے اس نئے اور سخت دائرہ کار میں مجرموں کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کرنے کا فیصلہ بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ اس قبیح فعل کی مؤثر حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ ریاست کی رٹ کو مقدم رکھنے اور امن کو یقینی بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

جو شہری اس وقت روزگار یا کسی بھی دوسرے سلسلے میں بیرون ملک مقیم ہیں، ان کے لیے بھی قوانین میں آسانی پیدا کی گئی ہے تاکہ وہ قانون کی پاسداری کر سکیں۔ ایسے تارکین وطن افراد اپنے باقاعدہ مجاز نمائندے کے ذریعے اپنا غیر قانونی اسلحہ باآسانی حکام کے پاس جمع کرا سکیں گے۔

حکام کی جانب سے تیار کیا گیا یہ مسودہ آرڈیننس اب منظوری کے لیے گورنر پنجاب کو ارسال کیا جا رہا ہے، جن کی دستخطی منظوری کے بعد اسے باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔ آرڈیننس کے نفاذ کے ساتھ ہی صوبہ بھر میں اس آپریشن کا باضابطہ آغاز کر دیا جائے گا۔

ریاستی اداروں کی جانب سے اس اہم آپریشن کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح پر ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں، اور اس تمام کارروائی کی نگرانی ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سہیل ظفر چٹھہ کے سپرد کی گئی ہے جو تمام امور کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔

سکیورٹی اداروں اور متعلقہ محکموں کو اس ضمن میں واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ کارروائی کو شفاف اور انتہائی مؤثر بنایا جا سکے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کسی بھی بے گناہ شہری کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور صرف قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف ہاتھ ڈالا جائے۔

حکومت کا یہ اہم اقدام صوبے میں امن و امان کی فضا کو بہتر بنانے اور جرائم کی شرح میں نمایاں کمی لانے کی کوششوں کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ماضی میں بھی غیر قانونی اسلحے کے خلاف مختلف اوقات میں کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں تاہم اب موجودہ حالات کے پیش نظر قوانین کو مزید سخت بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

معاشرے میں بڑھتے ہوئے پرتشدد رجحانات اور ناجائز اسلحے کی نمائش پر قابو پانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے ایک پیج پر ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ماننا ہے کہ سخت سزاؤں اور جائیدادوں کی ضبطی جیسے اقدامات سے جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے پست ہوں گے۔

اس مجوزہ آرڈیننس کے تحت تیار کردہ حکمت عملی کے جملہ تقاضے پورے کر لیے گئے ہیں اور تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پندرہ روزہ مہلت کے دوران عوام میں اس حوالے سے آگاہی پھیلائیں۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر آگے بڑھیں اور اپنے پاس موجود غیر قانونی ہتھیار حکام کے سپرد کر دیں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

جرم و سزا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں