لاہور کے علاقے راوی پل کے قریب ایک دلخراش ٹریفک حادثے کے نتیجے میں دو افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ سگیاں ٹول پلازہ کے قریب پیش آنے والے اس واقعے نے ایک بار پھر شاہراہوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور غفلت کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار لوڈر رکشہ بے قابو ہو گیا اور سڑک کنارے کھڑے ہوئے ایک بھاری بھرکم ٹرالر سے جا ٹکرایا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ لوڈر رکشے کے پرخچے اڑ گئے اور اس پر سوار افراد کو شدید ترین چوٹیں آئیں۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ٹریفک پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو گئیں تاکہ متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر دونوں افراد کو شدید زخمی حالت میں پایا اور فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی۔
تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے لوڈر رکشے پر سوار دونوں افراد موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے، جن کی شناخت عثمان اور ارسلان کے ناموں سے کی گئی۔ دونوں نوجوانوں کی ناگہانی موت سے ان کے خاندانوں میں کہرام مچ گیا اور علاقے میں سوگ کی فضا پھیل گئی۔
ٹریفک پولیس کے حکام نے حادثے کی جگہ کا تفصیلی معائنہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تیز رفتار اور غفلت شعاری اس دلخراش واقعے کی بنیادی وجہ بنی۔
حادثے میں ملوث دونوں گاڑیوں، یعنی لوڈر رکشے اور ٹرالر کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور انہیں ڈرائیور سمیت قریبی متعلقہ تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے ڈرائیوروں کے خلاف ضابطے کی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
چیف ٹریفک افسر لاہور نے اس افسوسناک واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ سی ٹی او نے ہدایت کی ہے کہ حادثے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔
شہر میں کھڑے ہونے والے ٹرالرز اور مسافربردار یا مال بردار گاڑیوں کی سڑکوں پر غیر قانونی پارکنگ ایک دیرینہ مسئلہ بن چکی ہے جو اکثر بڑے حادثات کا سبب بنتی ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہوں پر اس طرح کھڑے ہونے والی بھاری گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ شاہراہوں پر غیر قانونی اور خطرناک پارکنگ کے خلاف پہلے ہی مہم جاری ہے لیکن اس واقعے کے بعد ایسے عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا۔ پولیس نے تمام ڈرائیوروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے دوران دورانِ ڈرائیونگ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
شہر بھر میں تیز رفتاری اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف بھی شکنجہ کسنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو اس قسم کے حادثات سے محفوظ بنایا جا سکےلار ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک کے قوانین کی مکمل پابندی کریں۔
پنجاب کے دارالحکومت میں اس نوعیت کے حادثات کی روک تھام کے لیے ٹریفک انجینئرنگ اور انفراسٹرکچر میں بہتری کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ روڈ سیفٹی کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کر کے ہی اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔
جاں بحق ہونے والے دونوں افراد کے لواحقین کو ضابطے کی کارروائی کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں، جن کے آبائی علاقوں میں تدفین کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس دلخراش واقعے نے ایک بار پھر سڑکوں پر سفر کرنے والوں کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
شہری حلقوں نے ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ناگہانی واقعات سے بچا جا سکے۔ پولیس حکام کا عزم ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیازی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔




اپنی رائے دیں