لاہور کے مختلف علاقوں میں چکن کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری نرخوں کے برعکس دکانداروں نے اپنی مرضی کے دام وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے چکن کی سرکاری قیمت 548 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم شہر کی مارکیٹوں میں مرغی کا گوشت 600 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ سرکاری ریٹ لسٹ کی موجودگی کے باوجود عملدرآمد نہ ہونا انتظامیہ کی ناکامی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ دکاندار سرکاری نرخنامے کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں اور من مانے دام وصول کر کے عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈال رہے ہیں۔ صافی گوشت کے نام پر بھی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا جا رہا ہے۔
پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے شہر بھر میں کارروائیاں تو کی جا رہی ہیں لیکن ان کے نتائج برآمد نہیں ہو رہے۔ شہریوں کے مطابق یہ کارروائیاں محض خانہ پوری تک محدود ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی کا جن قابو میں نہیں آ سکا۔
دوسری جانب دکانداروں کا موقف ہے کہ قیمتوں کا تعین کرتے وقت ڈیلرز کے اخراجات اور منافع کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سپلائی چین میں مسائل اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث سرکاری نرخوں پر فروخت کرنا ممکن نہیں ہے۔
خریداروں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ چکن کی سرکاری قیمت پر فروخت کو یقینی بنایا جائے۔ مقررہ نرخ سے زائد وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
شہر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس رجحان نے عام شہریوں کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر متوسط طبقے کے لیے پروٹین کا سب سے سستا ذریعہ سمجھی جانے والی مرغی اب پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کمیٹیوں کے ساتھ مل کر قیمتوں کی نگرانی کا نظام مزید موثر بنائے۔ صرف چھاپے مارنے کے بجائے سپلائی چین کی نگرانی اور ڈیلرز کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قیمتوں کو مستحکم کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک انتظامیہ قیمتوں کے تعین کے عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لے گی، تب تک یہ تنازع برقرار رہے گا۔ دکانداروں اور انتظامیہ کے درمیان ہم آہنگی ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔
شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ صورتحال کا نوٹس لے گی اور مارکیٹ میں مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرے گی۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
آنے والے دنوں میں اگر قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر نرخوں کی مانیٹرنگ کرے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے عائد کرے۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ صرف اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہی مہنگائی کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔
شہر کے مختلف بازاروں میں چکن کی قیمتوں میں فرق بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ یکساں قیمتوں کے نفاذ کو یقینی بنائے تاکہ کسی بھی علاقے میں شہریوں کو لوٹا نہ جا سکے۔



اپنی رائے دیں