ڈپٹی کمشنر لاہور نے صوبائی دارالحکومت میں بسنت کے تہوار کے انعقاد سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے تحت آئندہ سال مارچ کے مہینے میں پتنگ بازی کی اجازت ہوگی۔ یہ فیصلہ شہر میں ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی اور روایتی تہوار کے پرامن انعقاد کے لیے کیا گیا ہے تاکہ شہری ضوابط کے دائرے میں رہ کر اس سے لطف اندوز ہو سکیں۔
مقررہ نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور میں بسنت کا تہوار بارہ سے چودہ مارچ دو ہزار ستائیس تک منایا جائے گا جس دوران مخصوص شرائط اور ضابطہ کار پر عمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ یہ اجازت صرف مخصوص علاقوں کے لیے ہے جبکہ حساس مقامات پر پابندی برقرار رہے گی۔
حکومتی احکامات کے مطابق پتنگوں اور ڈور کی تیاری کا عمل پانچ ستمبر سے چودہ مارچ تک جاری رہ سکے گا جبکہ سامان کی خریداری اور نقل و حمل کا آغاز یکم فروری سے ہو گا۔ اس کے علاوہ پتنگوں اور ڈور کی باقاعدہ فروخت دس فروری سے چودہ مارچ تک کی جا سکتی ہے۔
انتظامیہ نے مینوفیکچررز اور دکانداروں کے لیے ڈیجیٹل رجسٹریشن لازمی قرار دی ہے اور یہ ہدایت کی ہے کہ صرف رجسٹرڈ دکاندار ہی پتنگ بازی کا سامان فروخت کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی اور خطرناک سامان کی تیاری کی حوصلہ شکنی کرنا اور کاروبار کو شفاف بنانا ہے۔
نوٹیفکیشن میں پتنگ اور گڈے کے سائز کی بھی حتمی حد مقرر کر دی گئی ہے تاکہ مقررہ پیمانے سے تجاوز نہ کیا جا سکے۔ ہدایت کے مطابق پتنگ کی لمبائی پینتیس انچ اور چوڑائی ساڑھے چار گٹھی سے زائد نہیں ہوگی جبکہ گڈے کا سائز بھی طے کر دیا گیا ہے۔
شہریوں اور شائقین کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خطرناک ڈور، دھاتی تار اور نائلون کی ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ ڈور کی تیاری میں صرف مجاز اور محفوظ مواد کے استعمال کی سخت ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی اقدامات کے تحت گاڑیوں پر سیفٹی راڈز کی تنصیب کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ پتنگ کی ڈور سے ہونے والے حادثات کا تدارک کیا جا جا سکے اور سڑکوں پر سفر محفوظ بنایا جا سکے۔
ضلعی انتظامیہ نے تمام رجسٹرڈ مینوفیکچررز اور دکانداروں کو یہ پابند کیا ہے کہ وہ اپنے پاس موجود اسٹاک اور اشیا کی فروخت کا مکمل ریکارڈ رکھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا عمل شفاف رکھا جائے گا تاکہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ بسنت کے ایام میں تمام حفاظتی شرائط اور ضابطہ کار پر سختی سے عملدرآمد کروائیں۔ کسی بھی قانون شکنی یا ممنوعہ سامان کی فروخت پر فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکومت اور انتظامیہ کا یہ اقدام ثقافتی روایت کی بحالی کے ساتھ ساتھ شہریوں کی سلامتی کو مقدم رکھنے کی عکاسی کرتا ہے تاکہ تہوار روایتی جوش و خروش اور امن کے ساتھ منایا جا سکے۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ان ہدایات کا مقصد تمام شہریوں کے لیے ایک پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ روایتی تہوار کو بغیر کسی خوف کے منایا جا سکے۔ تمام متعلقہ اداروں کو اس سلسلے میں اپنی تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شہر بھر کے دکانداروں اور پتنگ سازوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی ڈیجیٹل رجسٹریشن کا عمل مکمل کریں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی دشواری سے بچا جا سکے۔ غیر رجسٹرڈ افراد کو کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکومتی سطح پر اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتياز کارروائی کی جائے گی تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔




اپنی رائے دیں