محکمہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن نے ملک بھر میں پاسپورٹ کے اجرا کے طریقہ کار میں ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے روایتی مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کا اجرا بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب شہریوں کے لیے صرف جدید ای پاسپورٹ کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے جس کا اطلاق فوری طور پر پورے ملک میں کر دیا گیا ہے۔
اس نئی پالیسی کے تحت ای پاسپورٹ کی فیسوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ نارمل کیٹیگری میں ای پاسپورٹ کی فیس اب 9 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کی نارمل فیس 4 ہزار 500 روپے تھی۔ اس طرح فیس میں دو گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ارجنٹ پاسپورٹ کے حصول کے لیے بھی فیسوں میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ اب ارجنٹ ای پاسپورٹ کی فیس 15 ہزار روپے ہوگی، جو کہ پہلے 7 ہزار 500 روپے تھی۔ اسی طرح فاسٹ ٹریک سروس کی فیس 12 ہزار 500 سے بڑھا کر 22 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے تاکہ جدید سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
حکام کے مطابق یہ نئی فیسیں 5 سال کی معیاد والے 36 صفحات کے پاسپورٹ کے لیے ہیں۔ 72 صفحات پر مشتمل پاسپورٹ کی فیس بھی اسی تناسب سے بڑھائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ جن شہریوں کے پاس پہلے سے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ موجود ہیں، وہ اپنی معیاد ختم ہونے تک مکمل طور پر کارآمد رہیں گے۔
محکمہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ای پاسپورٹ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے پیش نظر پاکستان نے بھی اپنے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔ ای پاسپورٹ کی تیاری میں زیادہ اخراجات اٹھتے ہیں، جس کی وجہ سے فیسوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔
ملک بھر میں اس جدید نظام کو فعال کرنے کے لیے محکمہ نے اپنی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے 10 نئی جدید پرنٹنگ مشینیں اور 6 لیمینیٹرز نصب کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 232 دفاتر میں 24 گھنٹے سروس فراہم کی جا رہی ہے جبکہ بیرون ملک 93 ونڈو کاؤنٹرز بھی کام کر رہے ہیں۔
گزشتہ برسوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو پاسپورٹ کے اجرا میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 55 لاکھ 72 ہزار سے زائد پاسپورٹ جاری کیے گئے، جو ملکی تاریخ میں ایک سال میں جاری ہونے والے پاسپورٹس کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
پاسپورٹ کے اجرا سے قومی خزانے میں بھی خطیر رقم جمع ہو رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو سالوں کے دوران اوسطاً 40 سے 50 ارب روپے سالانہ کی آمدن ہوئی ہے۔ یہ رقم ایف بی آر کے ٹیکسوں سے الگ ہے اور پاسپورٹ کی فیسوں کی مد میں براہِ راست حاصل ہوتی ہے۔
محکمہ پاسپورٹ کے مطابق 2024 میں 47 ارب 64 کروڑ سے زائد کی رقم صرف فیس کی مد میں قومی خزانے میں جمع کروائی گئی۔ 2023 میں بھی تقریباً 50 ارب روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے، جو پچھلے برسوں کی نسبت دوگنی آمدن ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف پاسپورٹ کی سیکیورٹی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ شہریوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق سفری دستاویزات کی فراہمی ممکن ہوئی ہے۔ اس نظام سے پاسپورٹ کے حصول کے عمل کو مزید شفاف اور تیز بنانے میں مدد ملے گی۔
محکمہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے مطابق 2024 میں تقریباً 65 لاکھ 96 ہزار اور 2023 میں 67 لاکھ 17 ہزار سے زائد پاسپورٹ جاری کیے گئے تھے۔ گزشتہ دو برسوں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد پاسپورٹ جاری ہوئے، جس سے اس شعبے کی اہمیت اور طلب کا اندازہ ہوتا ہے۔
حکومت کی جانب سے ای پاسپورٹ پر منتقلی کا مقصد عالمی معیارات سے ہم آہنگ ہونا اور شہریوں کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام سے پاسپورٹ کے اجرا میں درپیش تکنیکی مسائل کو حل کرنے اور عمل کو مزید مربوط بنانے میں مدد ملے گی۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پاسپورٹ کے حصول کے لیے نئی فیسوں کے مطابق ادائیگی کریں اور متعلقہ دفاتر سے رجوع کریں۔ محکمہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ کے بعد شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔





اپنی رائے دیں