سفید چھڑی کے تحفظ کا عالمی دن دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی منایا جا رہا ہے جس کا مقصد بصارت سے محروم افراد کے حقوق، ان کی خودمختاری اور معاشرے میں ان کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے خصوصی پیغام میں بصارت سے محروم افراد کے حوصلے، لگن اور جذبے کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن بصارت سے محروم لاکھوں افراد کے وقار کو اجاگر کرنے کا دن ہے۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ سفید چھڑی محض ایک آلہ نہیں بلکہ یہ بصارت سے محروم افراد کو روزمرہ کی زندگی میں خود مختاری کے ساتھ حصہ لینے کے قابل بناتی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے میں بصارت سے محروم خصوصی افراد کی کامیابیاں بھرپور تحسین کی مستحق ہیں۔ ان کی کامیابیاں نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ دیگر افراد کے لیے بھی مشعلِ راہ ہیں۔
انہوں نے ان افراد کے اہلخانہ اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے خصوصی اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خلوص اور لگن ہی ان افراد کو معاشرے میں نمایاں مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ اور ان کی خودمختاری کے لیے جاری اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت ان کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں خصوصی افراد کے حقوق، تحفظ اور خودمختاری کے لیے لگن اور خلوص کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پنجاب بصارت سے محروم افراد کی تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے خصوصی پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے تاکہ انہیں مرکزی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔
سفید چھڑی کا عالمی دن معاشرے میں شعور بیدار کرنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے تاکہ لوگ بصارت سے محروم افراد کے ساتھ ہمدردی اور برابری کا رویہ اپنائیں اور ان کے لیے راستے ہموار کریں۔
مریم نواز نے کہا کہ بلاسود قرضے، لیپ ٹاپ اور سکالرشپ سے دیہی بیٹیوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بصارت سے محروم تمام باصلاحیت افراد کی کامیابیوں اور ان کے نمایاں سنگِ میل پر فخر محسوس کرتی ہے۔
اس موقع پر مختلف سماجی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے بھی آگاہی واک اور سیمینارز کا اہتمام کیا گیا ہے جن میں بصارت سے محروم افراد کے مسائل کے حل اور ان کی ضروریات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے اپنے پیغام کے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ ایک مستحکم معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد، بشمول خصوصی افراد، کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔





اپنی رائے دیں