مواد پر جائیں
جمعہ، 16 اکتوبر 2026 5 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 11:57
بریکنگ
پشاور سکول سانحہ: انتظامیہ کی سنگین غفلت کے انکشافات، ابتدائی رپورٹ تیاریمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیبلاول بھٹو اور محسن نقوی کی ملاقات، خیبرپختونخوا کی صورتحال پر تبادلہ خیالدیہی خواتین کی معاشی خود مختاری پنجاب کی ترقی کا ضامن ہے، مریم نوازپاکستان ہاکی کی بحالی کیلئے نوجوان کھلاڑیوں کی سرپرستی ناگزیر ہے، احسن اقبالوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی او ایم کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سے ملاقاتسفید چھڑی کا عالمی دن: مریم نواز کا بصارت سے محروم افراد کے عزم کو خراج تحسینپشاور: عمرہ زائرین کیلئے بغیر ویکسی نیشن سفر کی تاریخ میں توسیعملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک، بالائی حصوں میں بارش کا امکانسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن انتخابات 2026-27 کے لیے حتمی امیدواروں کی فہرست جاریجمہوری نظام کو ری بوٹ کرنے کی ضرورت ہے، فیصل واوڈا کا بیانخیبرپختونخوا میں صحت انصاف کارڈ کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، نگار جوہربینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں جنوری سے ڈی پی ٹی کلاسز کا آغازمیرا بہترین کرکٹ دور ابھی آنا باقی ہے، نسیم شاہ کا عزمخیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: سینیٹر علی ظفر کا حکومت سے رپورٹ پیش کرنے کا مطالبہاسلام آباد کے ہفتہ وار بازار کل سے بند کرنے کا فیصلہ، باضابطہ نوٹیفکیشن جاریبالی ووڈ اداکار عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری
دنیا بریکنگ نیوز

یمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحق

یمنی حکام کے مطابق حوثیوں نے صدارتی کمپلیکس کو پانچ میزائلوں سے نشانہ بنایا، وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان محفوظ رہے۔

یمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحق

یمن کے دارالحکومت میں واقع صدارتی کمپلیکس پر حوثی باغیوں کی جانب سے شدید میزائل حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں دو سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے سکیورٹی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حوثیوں نے جمعرات کے روز صدارتی کمپلیکس کو ہدف بنایا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ باغیوں کی جانب سے کمپلیکس پر مجموعی طور پر پانچ میزائل داغے گئے جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

حملے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ حکام کے مطابق اس حملے میں دو سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں جبکہ دیگر زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس واقعے کے حوالے سے یمنی حکومت نے بتایا ہے کہ وزیراعظم اور کابینہ کے دیگر ارکان حملے کے وقت کمپلیکس میں موجود تھے تاہم وہ تمام مکمل طور پر محفوظ رہے ہیں۔ حکومتی ترجمان نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

دوسری جانب حوثی باغیوں کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ باغی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے میزائلوں نے صدارتی کمپلیکس کے اندر قائم ملٹری آپریشنز ہیڈکوارٹرز اور اسلحے کے ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔

حوثی ترجمان کے مطابق یہ حملہ سعودی افسران کے زیر انتظام چلنے والے مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔ تاہم یمنی حکام نے باغیوں کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا اور نہ ہی کسی فوجی تنصیب کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔

یمن میں جاری خانہ جنگی کے باعث صورتحال کافی عرصے سے کشیدہ ہے۔ حوثی باغی وقتاً فوقتاً سرکاری تنصیبات اور اہم مقامات کو نشانہ بناتے رہتے ہیں جس سے خطے میں قیام امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگتا ہے اور عام شہریوں کی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔

بین الاقوامی برادری نے یمن میں جاری اس کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے فریقین سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن میں سیاسی استحکام کے لیے مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حملے نہ صرف سکیورٹی صورتحال کو مزید خراب کرتے ہیں بلکہ انسانی بحران میں بھی اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے واقعے کے بعد دارالحکومت میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ اہم سرکاری عمارتوں اور حساس تنصیبات کے گرد سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی مزید ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔

یمنی وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اپنی سرزمین کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ باغیوں کے ان مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی۔

اس واقعے کے بعد سے علاقے میں فضا سوگوار ہے اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میزائل کہاں سے داغے گئے اور اس حملے میں کون سے جدید ہتھیار استعمال کیے گئے۔

یمن کے عوام طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں تاہم حوثیوں کی جانب سے اس طرح کی کارروائیاں امن عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں