یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ کے علاقے کی طرف میزائل داغے جانے کے تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ فریقین کی جانب سے سامنے آنے والے متضاد بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی کی صورتحال مزید واضح ہو گئی ہے اور مختلف حلقوں میں اس پر گہرے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں سرگرم عسکری اتحاد نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کی دفاعی فورسز نے ایک کروز میزائل کو فضا میں ہی کامیابی کے ساتھ روک کر تباہ کر دیا ہے۔ سعودی اتحاد کے حکام کے مطابق یہ میزائل مدینہ منورہ کے علاقے کو نشانہ بنانے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا جسے وقت پر ناکام بنا دیا گیا۔
سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم عسکری اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے دعویٰ کیا تھا کہ اتحادی فورسز نے مدینہ منورہ کے علاقے میں آنے والے اس کروز میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ اس دعوے کے سامنے آتے ہی بین الاقوامی میڈیا میں اس کی بازگشت سنائی دینے لگی تھی۔
سعودی اتحاد کے اس دعوے کے کچھ ہی دیر بعد یمن کے حوثی گروپ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے جاری کردہ بیان میں اس کی سخت الفاظ میں تردید کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں اس بات کی وضاحت کی کہ یمنی مسلح افواج نے آج سعودی عرب کی سرزمین کو نشانہ بنانے کے لیے کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب کے اس دعوے کو ایک کھلا اور بے شرمانہ جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بے بنیاد دعوے حقیقت کے منافی ہیں۔ دونوں فریقوں کی جانب سے ان متضاد اور مختلف بیانات کے سامنے آنے کے بعد اس پورے واقعے کی اصل حقیقت تاحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔
ابھی تک اس مبینہ میزائل کے ممکنہ ہدف، اسے داغے جانے کے اصل مقام اور اس واقعے سے جڑے دیگر اہم تکنیکی حقائق کے حوالے سے کسی بھی آزاد ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ غیر جانبدار ذرائع کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس قسم کے دعوؤں کی سچائی کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یمن میں جاری طویل المدتی تنازعے اور عسکری کشیدگی کے تناظر میں خلیجی خطے کی صورتحال ہمیشہ سے انتہائی حساس رہی ہے جہاں ہر فریق اپنے موقف کی حمایت میں بیانات جاری کرتا ہے۔ سعودی عرب اور اتحادی ممالک کی جانب سے ماضی میں بھی اس طرح کی فضائی کارروائیوں اور دفاعی اقدامات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد خطے کے امن، استحکام اور شہریوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے یمن کی مجموعی صورتحال پر انتہائی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس خطے میں اس نوعیت کے سکیورٹی خدشات اور جوابی کارروائیاں معمول کا حصہ بن چکی ہیں جو وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔
ماضی میں بھی اس طرح کے میزائل حملوں کے سرکاری دعوؤں اور حوثی گروپ کی جانب سے ان کی تردید کے واقعات دونوں فریقوں کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھاتے رہے ہیں۔ ان واقعات کے بعد خطے میں دفاعی انتظامات کو مزید سخت کر دیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
اس تازہ ترین واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی سفارتی حلقوں اور مبصرین میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ خلیجی خطے میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی کے عالمی امن اور توانائی کی سپلائی لائنز پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تمام متعلقہ فریقین کی جانب سے تاحال اس معاملے پر مزید کوئی بڑا پالیسی بیان سامنے نہیں آیا۔
آزاد ذرائع کی جانب سے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تصدیق کا انتظار شدت سے کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ زمینی حقائق دراصل کیا ہیں۔ اس دوران علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات کو انتہائی سخت رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو مؤثر طریقے سے ناکام بنایا جا سکے جو کہ خطے کے امن کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
خطے میں امن کے قیام کے لیے مختلف بین الاقوامی ادارے بھی سرگرم ہیں اور اس طرح کے واقعات پر اپنی رپورٹس جاری کرتے رہتے ہیں۔ یمن کا یہ تنازعہ طویل عرصے سے خطے کی سلامتی کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے جس پر عالمی برادری کی بھی پوری توجہ مرکوز ہے۔
دونوں فریقوں کے درمیان جاری اس بیان بازی کے بعد یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا آنے والے دنوں میں اس واقعے کی کوئی مزید رسمی تفصیلات یا شواہد سامنے آتے ہیں یا نہیں۔ تجزیہ کار اس صورتحال کو انتہائی غور سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس کا براہ راست تعلق خلیجی ممالک کی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں سے جڑا ہوا ہے۔





اپنی رائے دیں