قومی سطح پر شہریوں کے کوائف درج کرنے والے ادارے نادرا نے بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کیلئے اہم نوعیت کی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ ہدایات خاص طور پر ان افراد کیلئے ہیں جو اٹھارہ برس یا اس سے زائد عمر کے ہیں اور پہلی بار نائکوپ بنوانا چاہتے ہیں۔
ادارے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس شناختی دستاویز کے حصول کیلئے درخواست جمع کرانے سے قبل تمام ضروری دستاویزات اور تصدیقی مراحل کو مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی درخواست کے ساتھ اپنے والدین یا خون کے کسی قریبی رشتہ دار کا شناختی کارڈ یا نائکوپ نمبر لازمی فراہم کریں۔
اس کے علاوہ غیر ملکی تفصیلی برتھ سرٹیفکیٹ، ایس ون فارم، یا شہریت اور نیچرلائزیشن کا سرٹیفکیٹ بھی دستاویزات کا حصہ ہونا ضروری ہے۔
درخواست گزاروں کو اپنے پاکستانی یا غیر ملکی پاسپورٹ کے ساتھ رہائشی اجازت نامہ، سفری دستاویز یا پھر متعلقہ پاکستانی سفارتخانے سے تصدیق شدہ اقرار نامہ جمع کرانا ہوگا۔
نادرا کے جاری کردہ بیان کے مطابق درخواست فارم کی تصدیق کے عمل کو بھی آسان بنایا گیا ہے جسے والدین یا اٹھارہ سال سے زائد عمر کے بہن بھائی کی بائیومیٹرک تصدیق سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔
اگر بائیومیٹرک تصدیق کا حصول کسی وجہ سے ممکن نہ ہو تو اندرون ملک گزیٹڈ افسر یا کسی عوامی نمائندے سے تصدیق کرائی جا سکتی ہے۔
بیرون ملک مقیم افراد کیلئے یہ سہولت بھی رکھی گئی ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود نائکوپ ہولڈر سے اپنے درخواست فارم کی تصدیق کروا سکتے ہیں۔
اگر ادارے کے ریکارڈ میں درخواست گزار کا کوئی خاندانی ریکارڈ پہلے سے موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں دو نائکوپ یا شناختی کارڈ ہولڈرز کو بطور گواہ پیش کرنا ہوگا۔
خاندانی ریکارڈ نہ ہونے کی صورت میں گواہوں کے علاوہ ایک مخصوص حلف نامہ بھی جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ تمام قانونی تقاضے پورے ہو سکیں۔
اوورسیز پاکستانیوں کیلئے یہ سہولت فراہم کی گئی ہے کہ وہ اپنی یہ درخواستیں پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے آن لائن جمع کرا سکتے ہیں۔
آن لائن کے علاوہ دنیا بھر میں موجود متعلقہ نادرا رجسٹریشن سینٹرز کے توسط سے بھی اس اہم شناختی دستاویز کیلئے باقاعدہ رجوع کیا جا سکتا ہے۔
ادارے کا یہ اقدام بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کو درپیش انتظامی مشکلات کو کم کرنے اور انہیں وطن عزیز کے ساتھ جوڑے رکھنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔
تمام متعلقہ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی پریشانی سے بچنے کیلئے ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور اپنی درخواستیں وقت پر جمع کروائیں۔





اپنی رائے دیں