عالمی صرافہ مارکیٹ میں سونے کے نرخ ایک جیسے رہنے کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی پیلے دھات کی قیمتیں بغیر کسی ردوبدل کے مستحکم ریکارڈ کی گئیں۔ صرافہ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں سونے کی خرید و فروخت پرسکون ماحول میں جاری رہی اور قیمتوں میں کوئی اتار چڑھاؤ سامنے نہیں آیا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے چار ہزار ایک سو ترپن ڈالر کی سطح پر مستحکم رہی۔ عالمی منجی میں اس استحکام کا اثر براہ راست مقامی مارکیٹوں پر بھی پڑا جہاں صرافہ جیمز اور ڈیلرز نے پرانی قیمتوں پر ہی کاروبار کیا۔
مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونے کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے چار لاکھ سینتیس ہزار آٹھ سو چھتیس روپے کی سطح پر مستحکم دیکھی گئی۔ خریداروں اور فروخت کنندگان نے مارکیٹ کے اس جمود کو خوش آئند قرار دیا کیونکہ اس سے کاروباری سرگرمیوں میں توازن برقرار رہا۔
اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے تین لاکھ پچھتر ہزار تین سو تہتر روپے کی سطح پر برقرار رہی۔ چھوٹے اور بڑے صرافہ تاجروں کے مطابق مارکیٹ میں سونے کی طلب اور رسد کا تناسب فی الحال متوازن نظر آ رہا ہے جس کی وجہ سے ریٹس میں استحکام ہے۔
دوسری جانب سونے کے برعکس چاندی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا جس سے قیمتی دھاتوں کے کاروبار میں ملا جلا رجحان رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی اشاریوں اور کرنسی مارکیٹ کی تبدیلیوں کا اثر وقتاً فوقتاً قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر پڑتا رہتا ہے۔
فی تولہ چاندی کی قیمت میں دو سو بارہ روپے کی کمی واقع ہوئی جس کے بعد یہ چھ ہزار ایک سو اڑتالیس روپے کی سطح پر آگئی۔ چاندی کے خریداروں کے لیے قیمت میں یہ کمی قدرے ریلیف کا باعث بنی کیونکہ پچھلے دنوں اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔
علاوہ ازیں فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی ایک سو بیاسی روپے کی کمی کے بعد پانچ ہزار دو سو ستر روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ صرافہ مارکیٹ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ چاندی کی قیمتوں میں یہ معمولی تنزلی بین الاقوامی مارکیٹ کے تحرک کا نتیجہ ہے۔
ملکی معیشت اور صرافہ مارکیٹ سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں یہ استحکام سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔ سرمایہ کار اکثر سونے کی قیمتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں تاکہ وہ محفوظ سرمایہ کاری کے حوالے سے بروقت فیصلے کر سکیں۔
پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے نرخ اور پاکستانی روپے کی قدر کے تناسب سے کیا جاتا ہے۔ جب عالمی سطح پر سونے کے نرخ مستحکم ہوں اور مقامی کرنسی میں بھی استحکام رہے تو صرافہ بازار میں بھی مندی یا تیزی کا رحجان رک جاتا ہے۔
صرافہ مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں شادی بیاہ کے سیزن یا دیگر تقریبات کی وجہ سے زیورات کی مانگ میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود قیمتوں کا ایک سطح پر برقرار رہنا عام خریداروں کے لیے منڈی کی صورتحال کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
معاشی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ سونے اور چاندی میں سرمایہ کاری کرتے وقت مارکیٹ کے رجحانات کا بغور جائزہ لیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی رپورٹس اور ڈالر کے نرخ بھی صرافہ مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر کاروباری ہفتے کے دوران سونے کے نرخوں میں کسی قسم کا بڑا جھٹکا دیکھنے میں نہیں آیا جس سے مارکیٹ میں اطمینان پایا جاتا ہے۔ تاجروں اور خریداروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے کے عالمی معاشی اعداد و شمار پر مرکوز ہیں جو اگلی سمت کا تعین کریں گے۔
صرافہ منڈی میں ہونے والی ان تبدیلیوں کا جائزہ لینے والے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ مقامی سطح پر قیمتی دھاتوں کے کاروبار میں شفافیت کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی استحکام ملتا ہے۔





اپنی رائے دیں