عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حملوں کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان واقعات کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے پوری دنیا کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔
بینکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے مشترکہ سالانہ اجلاسوں کے دوران ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے حکام نے کہا کہ سعودی معیشت عالمی منڈی میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔
عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو عالمی معیشت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔
آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سعودی عرب کی معاشی استحکام براہ راست عالمی توانائی کی منڈیوں سے جڑی ہوئی ہے، لہذا کسی بھی قسم کی کشیدگی یا حملے کے منفی اثرات دنیا کے ہر ملک اور ہر فرد پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دنیا میں تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے وہاں ہونے والی کوئی بھی تبدیلی عالمی سطح پر مہنگائی کا باعث بنتی ہے۔
آئی ایم ایف حکام نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ عالمی معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور توانائی کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔
سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے بعد سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ انہیں اپنی درآمدات کے لیے زیادہ زرمبادلہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا پہلے ہی مختلف معاشی چیلنجز اور افراط زر کی بلند شرح سے نبرد آزما ہے، جس سے عالمی معاشی ترقی کی رفتار سست ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ادارے نے مزید کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف صنعتی پیداوار کی لاگت کو بڑھاتا ہے بلکہ اس سے عام صارفین کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ ٹرانسپورٹ اور بجلی کی قیمتیں براہ راست تیل کی قیمتوں سے منسلک ہیں۔
سعودی عرب کی حکومت نے بھی ان حملوں کے بعد اپنی تنصیبات کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں تاکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور عالمی معیشت کو مزید بحران سے بچایا جا سکے۔
آئی ایم ایف نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی معاشی سلامتی کے لیے تعاون کرے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور عالمی توانائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے جو کہ معاشی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
مبصرین کے مطابق سعودی عرب کی معیشت میں حالیہ برسوں میں آنے والی تبدیلیاں اور اصلاحات عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش رہی ہیں، تاہم سیکیورٹی کے واقعات ان کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں جس پر عالمی اداروں کو تشویش ہے۔
آئی ایم ایف کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی معاشی نظام ایک دوسرے سے کس قدر جڑا ہوا ہے اور کسی ایک اہم ملک میں پیش آنے والا واقعہ کس طرح پوری دنیا کے لیے معاشی خطرات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔





اپنی رائے دیں