مواد پر جائیں
جمعرات، 15 اکتوبر 2026 4 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:18
بریکنگ
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آج آخری تاریخ، توسیع کا مطالبہحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول مہنگا، ڈیزل سستاخیبرپختونخوا پولیس کیلئے تاریخی ریلیف پیکج، شہداء کے معاوضوں میں نمایاں اضافہوزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر تبادلہ خیالبرطانیہ میں کیمبرین پٹرول مقابلے: پاک فوج کی ٹیم نے سلور میڈل جیت لیاپی ٹی آئی سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، رانا ثنا اللہ کا غیر مشروط بات چیت پر زوریمن کا حوثی باغیوں کی جانب سے چینی ٹیکنالوجی کے استعمال کا معاملہ چین کے سامنے اٹھا دیایورپی یونین کی جانب سے یوکرین کے لیے 3.2 ارب ڈالر کی ہنگامی امداد جاریگلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے اور این ایف سی میں حصہ دینے کا مطالبہاسٹیج پر نازیبا جملوں کا معاملہ، بھارتی گلوکار ہنی سنگھ کو سائبر سیل کی آخری وارننگعراق سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم، سرزمین کسی حملے کے لیے استعمال نہیں ہوگیکینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں انجینئرنگ اسکالرشپ کے لیے درخواستیں طلبسعودی عرب آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ایشیا سب ریجنل کوالیفائر بی کا چیمپئن بن گیاخیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں علاقائی ترقیاتی کونسل کی تشکیل کا عمل شروعگریپ فروٹ: صحت بخش فوائد اور طبی اہمیتخیبر ٹیچنگ ہسپتال: لیبارٹری ریکارڈ میں لاکھوں ٹیسٹوں کا فرق، انکوائری رپورٹ جاریوزارت خارجہ کا عوام کیلئے بڑا اقدام، ڈیجیٹل اٹیسٹیشن سسٹم کا آغازنیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان نے اپنا نیا برانڈ نیم”نیشنل گرڈ پاکستان”متعارف کرادیاذوالقرنین خان مرحوم: دیانت، اصول پسندی اور روشن عدلیہ کی میراثبالی ووڈ فلم کھوسلہ کا گھونسلہ 2 کی ریلیز تاریخ تبدیل
پاکستان

خیبر ٹیچنگ ہسپتال: لیبارٹری ریکارڈ میں لاکھوں ٹیسٹوں کا فرق، انکوائری رپورٹ جاری

پشاور کے سرکاری ہسپتال میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کے ڈیٹا میں بے ضابطگیوں اور مالی نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال: لیبارٹری ریکارڈ میں لاکھوں ٹیسٹوں کا فرق، انکوائری رپورٹ جاری

خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں لیبارٹری ٹیسٹوں کے انتظام کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کے حوالے سے ایک اہم انکوائری رپورٹ سامنے آئی ہے۔ اس رپورٹ میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں ٹیسٹوں کی تعداد اور انوائسز کے ریکارڈ میں نمایاں فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔

انکوائری کے مطابق ہسپتال کی لیبارٹری میں 9 لاکھ 30 ہزار ٹیسٹ کیے گئے، تاہم ریکارڈ پر صرف 7 لاکھ 94 ہزار انوائسز موجود تھیں۔ اس طرح ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد ٹیسٹوں کا ریکارڈ غائب پایا گیا، جس سے ہسپتال کو ماہانہ لاکھوں روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 100 مریضوں کی کیٹیگری کو مبینہ طور پر تبدیل کیا جاتا تھا۔ اس عمل کے ذریعے مریضوں کے ٹیسٹ کم قیمت پر ظاہر کرنے کے لیے ڈیٹا کو صبح کی اوپی ڈی میں منتقل کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔

اس معاملے کی تحقیقات کے بعد ہسپتال کی لیبارٹری کی آمدن میں 130 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ ویئر شوکت خانم کینسر ہسپتال کی جانب سے مفت فراہم کیا گیا تھا اور اس کے استعمال پر کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔

تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ سافٹ ویئر کے ڈیٹا تک رسائی محدود ہونے اور اندراجات میں تبدیلی یا ڈیلیٹ کرنے کی سہولت کے باعث شفافیت کے مسائل پیدا ہوئے۔ اس کے علاوہ ہسپتال میں بار کوڈنگ سسٹم کا فقدان بھی نگرانی کے نظام میں ایک بڑی خامی ہے۔

انکوائری افسر نے معاملے کو ادھورا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف شام کی اوپی ڈی کے مسائل سامنے آئے ہیں، جبکہ صبح کی اوپی ڈی کے ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال بھی ناگزیر ہے۔ مریضوں کا ڈیٹا غیر متعلقہ افراد تک پہنچنا طبی اخلاقیات کے منافی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیسٹوں، انوائسز اور مالی اندراجات میں فرق کی مکمل وضاحت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔ اگرچہ اس فرق کو حتمی مالی خوردبرد قرار نہیں دیا گیا، تاہم ہر مالی اندراج کی باقاعدہ جانچ اور ذمہ داران کا تعین کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ڈائریکٹر نے مبینہ طور پر متعلقہ آئی ٹی سیکشن کو ریکارڈ فراہم کرنے سے روک دیا تھا، جس کے بعد انکوائری کمیٹی نے معاملے پر مزید سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انتظامی بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری رہنی چاہئیں۔

پشاور کے دیگر تدریسی ہسپتالوں بشمول ایل آر ایچ اور ایچ ایم سی میں بھی اسی نوعیت کا سافٹ ویئر نصب کیا گیا ہے۔ ایم ٹی آئی ایکٹ 2015 کے تحت چلنے والے ان ہسپتالوں میں اب نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مالی نظم و ضبط کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ لیبارٹری کے ریکارڈ میں شفافیت لانے کے لیے جدید ڈیجیٹل سسٹم اور سخت مانیٹرنگ کا ہونا لازم ہے۔

ہسپتال انتظامیہ نے اس معاملے پر مکمل تعاون کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ عوامی فنڈز کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں اب ہسپتال کے تمام شعبہ جات میں ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کیے جانے کا امکان ہے۔

صوبائی محکمہ صحت نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ توقع ہے کہ مستقبل قریب میں انکوائری کے نتائج کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے ٹیسٹوں اور فیسوں کے نظام کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے۔ شفافیت کے بغیر ہسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور مالی نقصانات کا ازالہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں