پاکستانی اور بھارتی کرکٹ ٹیموں کے درمیان روایتی حریفانہ روایات سے ہٹ کر اب شائقین کو ایک انوکھا منظر دیکھنے کو ملے گا جہاں دونوں ممالک کے نامور کھلاڑی ایک ہی ٹیم کے لیے میدان میں اتریں گے۔
یہ غیر معمولی موقع رواں برس دسمبر کے مہینے میں ہانگ کانگ میں منعقد ہونے والے پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کانٹینیٹ کپ کے دوران فراہم کیا جائے گا جہاں دنیا بھر کے سابق کرکٹرز ایک بار پھر ایکشن میں ہوں گے۔
کھیلوں کے حلقوں میں پاک بھارت میچز کو ہمیشہ سے ہی انتہائی جوش و خروش سے دیکھا جاتا ہے اور میدان جنگ جیسا سماں ہوتا ہے، لیکن اس بار صورتحال یکسر مختلف اور دوستانہ ہوگی۔
اس ٹورنامنت میں مجموعی طور پر چار بڑی ٹیمیں حصہ لیں گی جن کے نام ایشیا واریئرز، افریقا لائنز، یورپ چیمپئنز اور نارتھ امریکا ایگلز رکھے گئے ہیں اور ان میں دنیائے کرکٹ کے نامور ستارے شامل ہیں۔
منتظمین کے مطابق اس افتتاحی ایونٹ میں مختلف ممالک کے ساٹھ سے زائد سابق انٹرنیشنل کرکٹرز اپنی صلاحیتوں کا جوہر دکھائیں گے، جنہیں ایک بار پھر ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلتے دیکھنا شائقین کے لیے ایک دلکش تجربہ ہوگا۔
ایشیا واریئرز نامی ٹیم میں ایشیائی خطے کے ممالک کے کھلاڑیوں کو یکجا کیا گیا ہے، جس میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے سابق نامور کھلاڑی بھی شانہ بشانہ کھیلیں گے۔
پاکستان کی جانب سے اس مشترکہ ٹیم میں نمائندگی کے لیے پاکستان کے تجربہ کار آل راؤنڈر افتخار احمد اور مایہ ناز فاسٹ بولر سہیل تنویر کا انتخاب کیا گیا ہے جو ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
دوسری جانب بھارت کی نمائندگی کے لیے سابق جارحانہ اوپنر بیٹر شیکھر دھون اور اسپن بولر راہول شرما کو ایشیا واریئرز کے چوبیس رکنی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے جو پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلیں گے۔
اس ٹیم کے اسکواڈ میں بنگلہ دیش کے معروف کھلاڑیوں روبیل حسین اور محمود اللہ ریاض کو بھی جگہ دی گئی ہے، جس سے اس علاقائی ٹیم کا اسٹرکچر مزید مضبوط اور تجربہ کار ہو گیا ہے۔
ٹورنامنٹ کے منتظمین نے تاحال اس ایونٹ کے مکمل شیڈول کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق اس میں فائنل سمیت کُل نو میچز کھیلے جائیں گے۔
اس منفرد مقابلے کا بنیادی مقصد بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ جانے والے لیجنڈری کھلاڑیوں کو دوبارہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے ذریعے میدان میں واپسی کا موقع فراہم کرنا اور کرکٹ شائقین کو تفریح دینا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین ماضی میں ہمیشہ سخت مقابلے دیکھنے میں آئے ہیں، لیکن اب اس قسم کی لیگز دونوں ممالک کے سابق کھلاڑیوں کو قریب لانے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو رہی ہیں۔
شائقین کرکٹ اس تاریخی موقع کے منتظر ہیں جب پاکستانی اور بھارتی کھلاڑی ایک ہی لباس میں مخالف ٹیموں کے خلاف حکمت عملی بناتے ہوئے میدان میں نظر آئیں گے۔
ہانگ کانگ میں ہونے والا یہ ایونٹ نہ صرف کھیل کے شائقین کے لیے یادگار ہوگا بلکہ اس سے بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کے پرانے اور نئے توازن کو ایک منفرد رنگ بھی ملے گا۔
امید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں منتظمین کی جانب سے ٹورنامنٹ کے میچز کی تاریخوں اور ٹکٹوں کی فروخت سے متعلق مزید تفصیلات بھی جاری کر دی جائیں گی۔





اپنی رائے دیں